طویل اقتدار کے بعد جاپانی وزیراعظم نے عہدہ چھوڑ دیا

وزیراعظم شنزوایبی صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے الگ ہوئے ، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی خبریں

ٹوکیو جاپان کے وزیراعظم شنزوایبی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انہیں صحت کی خرابی کے باعث عہدہ چھوڑنا پڑا۔بتایا گیا ہے کہ جاپان کے وزیرِاعظم شنزوایبی چند روز قبل ہی طویل ترین دورانیے تک مسلسل وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے پہلے جاپانی وزیراعظم بن گئے تھے تاہم آج وہ مستعفی ہو گئے ہیں، انہیں صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے الگ ہوئے جس کے بعد جاپانی اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی بھی دیکھی گئی ہے۔یاد رہے کہ شنزوایبی 2006 سے 2007 تک ایک سال کے لیے جاپان کے وزیراعظم رہے جبکہ ایوان زیریں کے انتخاب میں کامیابی کے بعد دسمبر 2012 میں انہوں نے دوبارہ وزارتِ عظمٰی سنبھالی اور اپنی دوسری کابینہ تشکیل دی تھی۔تاہم یاد رہے کہ ووٹ خریدنے کے الزام میں جاپانی وزیراعظم شنزو کے قریبی اتحادی سابق جاپانی وزیرانصاف اور ان کی سیاستدان اہلیہ گرفتارکرلیا گیا تھا، دونوں میاں بیوی نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی۔

جاپانی وزیر اعظم شنزوابے کے قریبی اتحادی اور سابق وزیر انصاف اپنی سیاستدان بیوی سمیت ووٹ خریدنے کے شبے میں گرفتار ہوئے۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق سابق وزیر انصاف کاتسوکی کاؤئی اور ان کی اہلیہ انری پر الزام ہے کہ انہوں نے 2019ء کے ایوان بالا انتخابات میں منتخب ہونے کے لیے پانچ افراد کو 1.7 ملین ین کی ادائیگی کی جس کے عوض انہوں نے ایک نشست جیتی۔ واضع رہے کہ جاپان کے مشیر برائے خارجہ پالیسی کے فرائض انجام دینے والے کاتسوکی کوئی نے گزشتہ اکتوبر میں اپنی اہلیہ کی طرف سے انتخابی بے ضابطگیوں کی اطلاعات کے بعد وزیر کے عہدے سے سبکدوشی اختیار کر لی تھی لیکن حالیہ گرفتاری کے فوری بعد دونوں میاں بیوی نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی۔