#انبیاء_کرام علیہم السلام حق کے متلاشی یا حق کے داعی؟

تحریر : سیّد آصف رضا (ناربل، بڈگام)

سنور کلی پورہ ضلع بڈگام کے تحصیل ماگام کا ایک مشہور گاؤں ہے، جس کو حکومت نے ماڈل ولیج کا درجہ دے دیا ہے۔ تعلیمی میدان میں اس گاؤں کے لوگ بہت آگے اور دینی اعتبار سے بھی یہاں کے باشندے بیدار اور حساس ہیں. ………. گاؤں کے بیچوں بیچ ایک سڑک گذرتی ہے جس سے دن بھر لوگ ماگام سے بڈگام آتے جاتے ہیں۔برلبِ سڑک اس گاؤں کی مرکزی جامع مسجد شریف ہے۔……

راقم نے آج (17 اگست 2018ء) جمعہ کی نماز اسی مسجد میں ادا کی۔ مسجد شریف کی انتظامیہ نے آج خطبۂ جمعہ سے پہلے تبلیغ کے لئے وادیٔ کشمیر کے مشہور عالمِ دین مولانا سید بلال احمد کرمانی صاحب {

Bilal Kirmani

} (مصنّف ”آئینہ حق نما“) کو دعوت دی تھی۔ مولانا کرمانی صاحب شانِ انبیاء علیہم السلام اور شانِ اولیاء رحمہم اللہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کر رہے تھے۔ دورانِ تبلیغ آپ نے ایک واقعہ بیان کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عقیدہ کے بارے میں ہم کتنے لاپرواہ ہو گئے ہیں! (الا ماشاء اللہ)۔

آپ نے فرمایا کہ ایک دن برصغیر کے مشہور و معروف عالم دین قائد اہلسنت علامہ سید محمد اشرف اندرابی رحمۃ اللہ علیہ کو دوردرشن سری نگر سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس کی رو سے دورشن سری نگر میں ایک دینی پروگرام منعقد ہونا طے پایا تھا اور آپ کو اس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ پروگرام کا کیا موضوع ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ پروگرام کا موضوع”حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تلاش حق“ ہے! آپ کو یہ جان کر افسوس ہوا……….۔ چنانچہ آپ نے اسی وقت منتظمِ پروگرام کو بلوایا اور فرمایا: کیا آپ کو پتہ نہیں کہ انبیاء علیہم السلام حق کے متلاشی نہیں بلکہ حق کی طرف رہنمائی کرنے والے ہوتے ہیں۔“
توجہ طلب امر یہ ہے :کیا یہ ہمارے علماء کرام کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ توحید باری کے ساتھ ساتھ شانِ انبیاءِ کرام علیہم السلام کو بھی بھرپور طریقے بیان کریں تاکہ عام مسلمانوں کے اذہان شکوک و شبہات کے شکار نہ ہوں……؟؟؟
(دو سال پہلے کی تحریر)