
وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات پر نافذ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج فوری ختم کرنے کی ہدایت کردی۔
ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس وزیراعظم کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملکی برآمدات پر نافذ کردہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے
وزیراعظم نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ کا پچھلے 5 سال کا عالمی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔ اسی طرح ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ میں موجودہ رقم کےبہترین استعمال کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے موزوں چیئرمین کو منتخب کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں موجود رقم کو صرف ملکی برآمدات میں اضافے،متعلقہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، برآمدی سیکٹر کی افرادی قوت کی ہنر مندی، ٹریننگ اور عالمی معیار کی جدید سہولتوں کے لیے استعمال کیا جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ کے تحت جاری پروگرام اور تمام اسکیمز کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ٹڈاپ (TDAP) کے کردار کا اصلاحاتی جائزہ اور تشکیل نو کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ کا غیر متعلقہ اور غیر منطقی استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی برآمدی اشیا کی تشہیر اور پروموشن وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے صنعت کاروں کو فوری طور پر ہر ممکن سہولت پہنچانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔