
افغانستان کا بدلتا بیانیہ : تحریر سلیم اعوان
پاکستان افغانستان کشیدگی کے باعث سرحدیں بند ہیں ایک بڑا نقصان طرفین سے تجارت کا ہورہا ہے۔ مال سے لدے ٹرک سرحدوں پر کھڑے ہیں اور جو مال مارکیٹ سے سرحدی بندش کے باعث نہیں نکالا جارہا ہے وہ الگ سے ہے۔ کروڑوں کا نقصان تاجر اٹھا رہے ہیں تو بالکل دونوں ممالک کو معاشی خسارہ ہورہا ہے۔ لیکن افغانستان نے اپنے تاجروں سے کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے مقابل تجارت کے لیے دوسرے ممالک کے راستے تلاش کریں۔
اب ادھر آجائیں اور دیکھیں کہ پاکستان پر افغانستان سے ہونے والے حملوں کو افغانستان نے کبھی بھی مسترد نہیں کیا۔ بلکہ ابتدائی بیٹھکوں میں افغانستان کیےمذاکراتی وفدنے اتفاق رائے بنانے کے لئیے وقت مانگا ہے۔ اس طرح سے افغانستان نے پاکستان کی بات کو درست تسلیم کرلیا ہے۔ اور مان لیا ہے کہ افغانستان کے اندر سے نہ صرف پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں۔ بلکہ منصوبہ بندی بھی یہیں سے ہی ہورہی ہے۔ جب آپ تسلیم کرتے ہیں کہ حملے کیے جارہے ہیں اور آپ کارروائی بھی نہیں کرتے تو پاکستان تو کیا ساری دنیا یہی سمجھتی ہے کہ آپ “ان طالبان” کے ساتھی ہیں جنہیں دنیا دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔
خواجہ آصف بتا چکے ہیں کہ افغانستان نے کہا تھا کہ طالبان کو کابل اور قندھار لے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے لیےرقم درکار ہے۔ اج کی طرح اس وقت بھی پاکستان نے آپ سے گارنٹی چاہی کہ کیا ثبوت ہے اور کس طرح سے یقین کرلیا جائے کہ وہ لوگ دوبارہ سرحدوں پر نہیں آئیں گے اور پاکستان پر حملہ آور نہیں ہونگے۔ آج کی طرح اس وقت بھی آپ نے اس پر بات نہیں کی۔ مذاکرات کے لیئے دسمبر میں پھر سے بیٹھک متوقع ہے۔ ترکیہ کا ایک وفد متوقع بیٹھک سے پہلے پاکستان آرہا ہے۔اگرچہ قطر اور ترکیہ میں پاک افغان مذاکرات کسے آخری نتیجہ پر نہیں پہنچے۔ لیکن ان بیٹھکوں کے میزبان ترکیہ اور قطر نے بہرحال پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا۔ لیکن آج بھی افغانستان ترکیہ اور قطر کی کوششوں کے باوجود اس بات کی تحریری گارنٹی دینے کو تیار نہیں کہ افغانستان سے پاکستان پر حملے نہیں ہونگے۔
پاکستان نے مذاکراتی بیٹھکوں میں ہمیشہ کہا ہے کہ
1- افغانستان پاکستان پر حملہ آور یونے والے طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔
2-حملہ آوروں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
3-پاکستان کو افغاتستان کے اندر حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی اجات دی جائے۔
افغانستان کے مذاکراتی وفد نے کہا ہمیں اتفاق رائے بنانے کے لئے وقت دیا جائے۔ اب آپ عملاً اپنے بیانیے سے مکر کر الزام سیدھے پاکستان کو دیتے ہیں کہ”پاکستان اپنے اندر کا معاملہ افغانستان پر ڈال رہا ہے”دنیا آپ کے بدلتے بیانیہ کا مطلب کیا لے۔ آپ کی اس بات کو کسی طرح سے مان بھی لیا جائے تو اس حقیقت سے کس طرح انکار کرپائیں گہ کہ تحریک طالبان پاکستان جس پر پاکستان پابندی لگا چکا جس پر دنیا نے دہشت گردی کی پاداش میں پابندی لگا دی۔ وہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے آپریٹ ہورہی ہے۔حملہ آور کس کا پیدا کردہ ہے اس بحث کو جزوقتی طور پر ایک طرف رکھ بھی دیں۔ پھر بھی ان کا سہولت کار تو افغانستان ہی ہے۔ جو عملی طور پر بیانیہ بدل کر ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہین ہے۔۔
یہ بات بھی بہرحال افغانستان کو سمجھنا ہے کہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ اور برادر اسلامی مملک ہی نہیں بلکہ پاکستان افغانستان کا محسن بھی ہے۔ افغانستان پر ہوئے حملوں کے خلاف پاکستان نہ صرف ڈھال بنا ہے بلکہ افغانستان پر ہوئے حملوں کے خلاف ڈھال بننے کے عمل کو پاکستان نے خود پاکستان کے اندر بم دھماکوں کی صورت بھگتا ہے۔ چالیس سال تک پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی۔
افغانستان کے نائب وزیراعظم جو آج اپنے تاجروں کو پاکستان کی بجائے دیگر ممالک سے تجارت کے راستے تلاش کرنےکا مشورہ ہی نہیں بلکہ حکم دے رہے ہیں۔ اور اس کے لیے تین ماہ کا وقت بھی دیا گیا ہے۔ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے تجارتی رابطہ توڑنا کاروباری طور پر کس قدر مہنگا سودا ہوسکتا ہے
کسی نے کہا کہ ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔ لیکن افغانستان خود کو دوسروں کی جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے ہاتھ کھیلنے والا افغانستان جس کے پاس معاش نام کی شئے ہی نہیں ہے۔ کوئی صنعت یا فیکٹری نہیں ہے۔اور معاشرتی آگاہی اتنی ہے کہ اڑتے جہازوں کے پروں اور پہیوں سے لٹک جاتے ہیں۔ اور تعلیم کے مسائل کے ساتھ صحت کے معاملات کے لیے بھی اسے پاکستان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ملک کی بہت بڑی آبادی مزدوری کے پیشے سے وابستہ ہے۔ لوگ مشکلات بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک بڑی آبادی کا حصہ ہر دوسرا تیسرا دن بھوکا رہنے پر مجبور ہے۔ کیا افغانستان بھارت اور اسرائیل کی خاطر پاکستان سے کشیدگی کا متحمل ہوسکتاہے