تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ میرا رشتہ قائم ہے،ہر محاذ پر تحریک کے ساتھ کھڑا رہوں گا،چوہدری انوار الحق

اسلام آباد:سابق وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ میرا رشتہ قائم ہے،ہر محاذ پر تحریک کے ساتھ کھڑا رہوں گا،وزارت عظمیٰ ہو یا نہ ہو کشمیر کا درد ہر کشمیری کے دل میں بستا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو قید خانے میں بدل دیا، 9 لاکھ فوج نے زندگی ناممکن بنا دی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے حریت کانفرنس کے دفتر کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ تحریکِ آزادیِ کشمیر میرے رگو ں میں ہے، اقتدار سے اس رشتے کا تعلق نہیں انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس کے دفتر کے دورے کابنیادی مقصد ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ کے فرزند کی وفات پر تعزیت تھا،انہوں نے کہاکہ حریت قیادت نے ہمیشہ تحریک کی رہنمائی کی ان کی سرپرستی اہم ہے،حریت کے ساتھ نظریاتی وابستگی زندگی کے آخری سانس تک قائم رہے گی،اب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے نظریاتی کردار مزید توانا آواز سے برقرار رہے گا

انہوں نے کہا کہ نظریہ حریت کسی تحریک کا محتاج نہیں جو بیانیہ میرے والد نے دیا وہی اپنی اولاد کو منتقل کر رہا ہوں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاسی کارکن کی کوئی ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی زندگی بھر جدوجہد جاری رہتی ہے،انہوں نے کہاکہ بیانیہ اقتدار سے نہیں جڑا میرے نظریات مستقل اور غیر متزلزل ہیں،دور وزارت عظمیٰ کے دروان میرا مؤقف تھا، آج بھی اسی پر قائم ہوں،نظریاتی وابستگی سیاسی اتار چڑھاؤ سے متاثر نہیں ہوتی،سابق وزیراعظم نے کہاکہ حریت قیادت سے ملاقات تعزیت کے ساتھ ساتھ تحریک کے نظریاتی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ہے،

وزارت عظمی کے دوران میرے نظریاتی سفر میں مزید پختگی پیدا ہوئی،انہوں نے کہاکہ حریت قیادت کا مشکور ہوں ان کی رہنمائی تحریک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیجب تک سانس قائم ہے تو تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ میرا رشتہ قائم ہے،سیاسی، سفارتی، فکری ہر محاذ پر تحریک کے ساتھ کھڑا رہوں گا، اس سے قبل چوہدری انوار الحق نے حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے مرحوم کے ایصالِ ثواب اورلواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔ حریت کنوینر غلام محمد صفی نے سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحریک آزادیِ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ان کے عملی اقدامات قابل قدر اور تاریخی حیثیت کے حامل ہیں