شاہ غلام قادر کا اسمبلی اجلاس سے خطاب،نو منتخب وزیراعظم کو مبارکباد، سیاسی فیصلے کی وضاحت

مظفر آباد(کشمیر پوسٹ نیوز)صدر پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادرنے قانون ساز اسمبلی کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر کو مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ، انہوں نے کہا کہ آج لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں دیا تو اس ایوان میں اس کا تذکرہ میں ضروری سمجھتا ہوں ۔یہ فیصلہ ایوان صدر اسلام آباد میں ہوا جہاں پیپلزپارٹی کی جانب سے صدر پاکستان آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، چوھدری ریاض،صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری یاسین ، فیصل ممتاز راٹھور اور چند دیگر اور ذمہ داران پیپلزپارٹی کے موجود تھے جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا ثنا ء اللہ ، چوہدری احسن اقبال ، امیرمقام اور میں موجود تھا ، وہاں تمام نکات پر بحث ہوئی اور طے پایا کہ ایم ایل اے کی حکومت سے چھٹکارا پانے اور ریاست کو فعال بنانے میں پیپلز پارٹی کی مدد کی جائے گی ۔کیونکہ پیپلز پارٹی کے اپنے کل ملا کر 13لوگ تھے اور 13کے ساتھ کبھی عدم اعتماد نہیں ہونا تھا ۔پیپلز پارٹی میں اب بھی وہی 13لوگ ہیں ، ہم پیپلزپارٹی کے دیرنیہ کارکنان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جن کے اوپر پیپلزپارٹی آزاد کشمیر نے مفاداتی گروپ کو لاکھڑا کیا ہے جو آج آپکی طرف بیٹھے ہیں کل یہ دوسری طرف بھی جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان 13ہی کا خیال رکھے کیونکہ اصل پیپلز پارٹی یہی ہے ، انہوں نے کہا کہ انوارلحق سرکار نے نہ بجٹ بناتے ہوئے کسی سے مشاورت کی ، نہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اور نہ ہی بجٹ پر بحث ہونے دی، کیا جمہوریت اسے کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ ریاست میں افراتفری کا ماحول رہا ۔کوئی شخص اپنا کام کرنے کو تیار نہ تھا ۔ہر کام احتجاج کے ذریعے ہورہا تھا اس لیے بھی ضروری ہوگیا تھا کہ ہم عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں ۔انھوں نے کہا مسلم لیگ ن اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی ، حکومت کے ہر اچھے کام میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔اگر حکومت نے کوئی غلط اقدام اٹھایا ہم اس کے خلاف اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے ، عدالتوں میں بھی جائیں گے اور باہرسڑکوں پر بھی احتجاج کریں گے ۔انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری گزشتہ دس ماہ سے نہیں ہورہی ہماری توجہ دلانے کے باوجود انوار الحق نے دس ماہ سے تقرریاں نہیں کی ۔آپ الیکشن کمیشن کی تعیناتی کو یقینی بناتے ہوئے ، ریاست کی رٹ بحال کریں گے ، آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا اس کو نہیں بھولا جا سکتا ، ہم آپ کی حکومت گرانے کے حق میں نہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ پانچ چھ ماہ کی حکومت میں کوئی افرا تفری ہو ، قائد ایوان کو مخاطب کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ آپ کے والد غریب لوگوں کے دوست تھے رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے آپ نے بھی چھوٹے کارکنان کا خیال رکھنا ہے، عوام الناس کی خدمت کرنی ہے ۔