مقبوضہ کشمیر میں پی ایچ ڈی اسکالر شاہد مشتاق بٹ کو بھارتی فوج نے شہید کر دیا کشمیری شہدا میں انجینئرز،ڈاکٹرز اور انتہائی اعلی تعلیم یا فتہ جوان بھی شامل ہیں

سرینگر(کے پی این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی آپریشن کے دوران  ایک ہفتے میں ایک درجن سے زیادہ کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ہیں ۔ ان نوجوانوں میں پی ایچ ڈی اسکالر شاہد مشتاق بٹ بھی شامل ہیں۔  شاہد مشتاق بٹ28 فروری کو اونتی پورہ پلوامہ میں بھارتی فوجی جارحیت کا نشانہ بنے ۔ شاہد مشتاق بٹ کشمیر یونیورسٹی سری نگر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ ان کا تعلق چاڈورہ بڈگام  سے تھا۔ بھارتی فوج نے  پیر کے روزضلع پلوامہ کے علاقے گڈی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران  دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کیاحزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں اب تک ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ مجاہدین  نے ہندوستان کے خلاف بندوق اٹھاکرجام شہادت نوش کرکے ثابت کیا کہ جدوجہد آزادی مفروضوں پر نہیں بلکہ دلائل کی بنیاد پر قائم ہے اور حصول منزل پر جاری رہے گی۔ ایک بیان میں  سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ  قابض دشمن کے خلاف  مسلح جاری عسکری جدوجہد میں  ایک کثیر تعداد میں انجینئرز،ڈاکٹرز اور انتہائی اعلی تعلیمیا فتہ جوانوں اور بزرگوں نے جموں کشمیر کی آزادی اور اسلام کی سربلندی کیلئے قابض سفاک دشمن کے خلاف دادِشجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ان فرزندانِ قوم میں شہیددانشورو عالم دین شمس الحق، شہید فردوس کرمانی،شہید انجئینئر طاہر محمود،شہید انجینئر عبد الرشید وانی،شہید ایگریکلچر آفیسر فیاض احمد آغا،شہید دانشور مجاہد مسعود،  شہیدڈاکٹر منان وانی، شہید ڈاکٹر سبزار احمد، شہید ڈاکٹر وسیم، شہید پروفیسر رفیع الدین  بٹسمیت دیگر بے شمارشخصیات نمایاں نظر آتے ہیں جوکشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر  ہیں۔اسی گلستان شہدا کے مہکتے ہوئے پھولوں میں ایک تازہ پھول دو روز قبل اونتی پورہ پلوامہ کی سرزمین پر کھلا ہے جب چاڈورہ بڈگام کے رہائشی پی ایچ ڈی اسکالر شاہد مشتاق بٹ نے جارح ہندوستانی فوج سے ایک خونریز معرکے میں نبردآزما ہونے کے بعد تمغہ شہادت حاصل کر کے جنتوں کو اپنا ابدی ٹھکانہ بنایا ہے۔اللہ تعلی ان کی شہادت قبول فرمائے۔ جہاد کونسل کے چیر مین نے مزید کہا کہ  اسی دوران ایک اور جھڑپ میں حزب سے وابستہ اشفاق احمد گنائی اور یاور ایوب ڈار بھی بیجباڑہ  اسلام آباد میں ایک مقابلے میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ سید صلاح الدین احمد نے ان تمام  شہدا  کی بلندی درجات اور ان کے ورثا کیلئے صبر کی دعا بھی کی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ شہدا کشمیر کا مقدس لہو ضائع نہیں ہوگا۔قابض کو نکلنا پڑے گا،میر جعفر اور میر صادق جیسے کرداروں کو تاریخ کے کوڑے دان میں گر کر عبرت کا نشان بننا پڑے گا۔