
مسلم اکثریتی علاقوں میں شراب نوشی کو فروغ دینا بی جے پی کا ناپاک منصوبہ ہے: میر شاہد سلیم
جموں10جولائی() غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور یونائٹڈ پیس الائنس کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے کہاہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی مسلم اکثریتی علاقوں میں شراب نوشی کو فروغ دیکر نہ صرف ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کررہی ہے بلکہ اسلامی اقدار اور تہذیب و ثقافت کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
میر شاہد سلیم نے سرنکوٹ میں شراب خانہ کھولے جانے کے خلاف جاری عوامی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ مسلم اکثریتی علاقوں میں شراب خانے کھول کر کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟انہوں نے کہا کہ عوام کے مسلسل احتجاج کے باجود قابض انتظامیہ شراب کو عام کرنے پر اس قدر بضد کیوں ہے؟ میرشاہد سلیم نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مقبوضہ جموں و کشمیر میں عبادت گاہوں ، اسکولوں اور درسگاہوں کے آس پاس شراب خانے کھول کر کشمیریوں کو تباہی اور بربادی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سرنکوٹ کی سول سوسائٹی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جو شراب خانہ کھولے جانے کے خلاف گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ میر شاہد سلیم نے کہا میں ان نوجوانوں، بزرگوں ، مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اپنی نئی نسل کو بچانے کے لئے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہندو اور سکھ مذہب کے لوگوں کی بھی تعریف کی جو شراب مخالف تحریک میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ انہوں نے خطہ پیر پنچال کے تمام لوگوں سے بلا لحاظ مذہب وملت اپیل کی کہ وہ اپنے معاشرے کو شراب اور دوسری منشیات کی بدعات سے پاک رکھنے کے لئے اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ انہوں نے بدھل ،کوٹرنکہ، منجہ کوٹ اور مینڈھر کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کھولی گئی شراب کی دکانوں کو بند کروانے کے لئے اپنا پر امن احتجاج درج کروائیں۔ حریت رہنمامحمد عاقب، جموں کشمیر پیرپنچال فریڈم موومنٹ اور جموں و کشمیر عوامی پارٹی نے بھی اپنے بیانات میںسرنکوٹ میں شراب خانہ کھولے جانے کے خلاف احتجاج کرنے پر علاقے کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیری نوجوانوں کو نشے کا عادی بناکر تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔