
کینیڈا میں اپنے رہنما کے قتل کے خلاف سکھوں کا بھارتی قونصل خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ
ٹورنٹو09جولائی() کینیڈا کی سکھ برادری نے گزشتہ ماہ وینکوور کے علاقے میں اپنے ایک رہنما کے قتل کے خلاف ٹورنٹو میں بھارتی قونصل خانے کے باہراحتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ بھارتی حکومت سکھ گردوارے کے صدر اور ایک آزاد سکھ ریاست ”خالصتان ”کے قیام کی مہم چلانے والے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ امریکہ میں قائم تنظیم” سکھز فار جسٹس”جس نے ریلی کا اہتمام کیاتھا، کے ترجمان کلجیت سنگھ نے میڈیا کو بتایا جب کوئی بھارتی ایجنسی یا ادارہ جرم کرتا ہے تو ان کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔ہردیپ سنگھ نجر کو 18جون کو وینکوور کے مضافاتی علاقے سرے میں جو کینیڈا میں سکھوں کی سب سے بڑی آبادی والا علاقہ ہے، گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔مظاہرین میں شامل ایک اورشخص حکرت سنگھ نے جو پیشے سے ایک وکیل ہے ،میڈیا کو بتایا کہ رائل کینیڈین مائونٹڈ پولیس کواس قتل کی تحقیقات ایک سیاسی قتل کے طور پر کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جب کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو آپ کو سیاستدانوں کی ٹویٹس اور ردعمل نظر آتا ہے۔ یہاں یہ کینیڈا کی سرزمین پر ایک کینیڈین شہری کا قتل ہے۔ یہ غیر ملکی مداخلت ہے۔مظاہرین نے پیلے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر نیلے رنگ کے لوگو تھے جو ان کی علیحدگی پسند تحریک کی علامت ہے اوروہ خالصتان خالصتان کے نعرے لگا رہے تھے۔