
مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کے لیتھیم کے ذخائر کی لوٹ مار کی کوشش کر رہی ہے ، ہرش دیو سنگھ
جموں 30مئی ()
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل پینتھرز پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ نے کہا ہےکہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت حال ہی میں ضلع ریاسی میں دریافت ہونے والے لیتھیم کے ذخائر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ کشمیری عوام کی ملکیت ہیں۔
ہرش دیو سنگھ نے ان خیالات کا اظہار بھارتی سیکرٹری مائنز وویک بھردواج کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کیا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ مودی حکومت دسمبر سے قبل مقبوضہ کشمیرکے لیتھیم کے ذخائر نیلام کر دے گی۔ہرش دیو سنگھ نے جموں میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی سیکریٹری کے اس معاملے میں مداخلت کرنے پر سوال اٹھایا جوکہ مقبوضہ کشمیرانتظامیہ کے دائرہ اختیا ر میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 1957کے تحت یہ مقبوضہ کشمیر میں پائے جانیوالی معدینات کو نکالنے اور کان کنی کا اختیار صرف مقامی انتظامیہ کو پاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ لیتھیم کے ذخائر کی نیلامی کا مودی حکومت کافیصلہ جیسا کہ بھارتی سکریٹری کے بیان سے ظاہر ہے نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی بھی ایک کوشش ہے۔ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ صرف ضلع ریاسی میں 59لاکھ ٹن لیتھیم کے ذکائر دریافت ہوئے ہیں اور مقبوضہ کشمیرمیں اس سے کہیں زیادہ لیتھیم کے ذخائر دریافت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرپہلے سے موجود قوانین کے مطابق کشمیریوں کو اپنے قدرتی ذخائر سے استفادہ کرنے کی اجازت دی جائے تو جموںو کشمیر کی سماجی و اقتصادی حالت میں نمایاں طورپر بہتری آئے گی ۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیرکے لیتھیم کے ذخائر کی نیلامی سے روکاجانا چاہیے اور اسکی نیلامی کا اختیار اسمبلی انتخابات کے بعد قائم ہونیوالی مقبوضہ کشمیرکی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کو مقبوضہ کشمیرکے لیتھیم کے ذخائر کا کنٹرول فراہم کرنے کیلئے کان کنی ایکٹ میں کوئی بھی ترمیم قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہو گی بلکہ یہ کشمیریوں کے قدرتی وسائل کی چوری کے مترادف ہو گی ۔