یاسین ملک کے قتل کی سازش کرنے پرفسطائی مودی حکومت کی شدید مذمت

اسلام آباد 29مئی() کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو عدلیہ کے ذریعے قتل کرنے کی سازش کرنے پرفسطائی مودی حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ کے کنوینر محمود احمد ساغر کی صدارت میں اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ بھارت کی متعصب عدالتیں ہندوتوا عناصر کے زیر اثر کام کر رہی ہیں اور کشمیریوں کو ان کے پیدائشی حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر سزائیں دے رہی ہیں۔اجلاس میں کہاگیا کہ بھارت کی کینگرو عدالتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کو مایوس کیا ہے۔ بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عدالت سے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کا مطالبہ ایک اور مقبول کشمیری رہنما کے عدالتی قتل کی گہری سازش ہے۔ اجلاس میں افسوس کا اظہارکیا گیاکہ بھارتی حکومت اور مسلم دشمن عدلیہ کے ناپاک گٹھ جوڑ نے کئی بے گناہ کشمیریوں کی جانیں لی ہیں اور ممتاز کشمیری شہدا محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کا عدالتی قتل کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی تازہ مثالیں ہیں۔ اجلاس میں اقوام متحدہ ،بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ آگے آئیں اور کشمیریوں کو ہندوتوا کی دہشت گردی سے بچائیں۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زوردیاگیا کہ وہ جے کے ایل ایف کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ ،نعیم خان، آسیہ اندرابی اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے دیگر رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دریں اثناء اجلاس میں آسیہ اور نیلوفر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شوپیاں میں عصمت دری اور دوہرے قتل کے سانحے کو جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی ضمیر پر سنگین حملہ قرار دیاگیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شوپیاں سانحے نے وادی کشمیر کے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں محمد فاروق رحمانی، میر طاہر مسعود، شیخ عبدالمتین،امتیاز وانی،سید اعجاز رحمانی، جاوید اقبال بٹ، حسن البنائ، راجہ خادم حسین، سلیم ہارون، محمد شفیع ڈار، زاہد اشرف، نذیر کرنائی، اور دیگر نے شرکت کی۔