دنیا کشمیریوں کو بھارت کے ہندوتوا حملوں سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے

اسلام آباد17 اپریل(کےپی این)بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، کریک ڈائونوں اور چھاپوں کی آڑ میں قتل وغارت کے ذریعے منظم طریقے سے کشمیریوں کو ختم کر کے علاقے میں ہندوئوں کی آبادکار ی کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے۔
آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت وادی کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے، جس طرح اس نے 1947میں جموں میں ڈوگرہ فورسز کے ساتھ مل کر کیا تھا، تمام بین الاقوامی قوانین اورمعاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کرکے کشمیریوں کو ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رہاہے۔ مودی حکومت نے اپنی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر اسرائیلی طرز پرمقبوضہ علاقے میں پنڈتوں کے لئے کئی علیحدہ بستیاں، فوجیوں کی کالونیاں تعمیر کی ہیں اور اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اس عمل میں تیزی آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ کشمیریوں کو ان کی شناخت اور حقوق سے محروم کرنے کے لیے بھارت تیزی سے غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر رہا ہے جو جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں آبادی کاتناسب جلد از جلد تبدیل کرنے کے لیے گھروں اوراملاک کی غیر قانونی ضبطی، جبری بے دخلی اور گھروں کی مسماری جیسے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ معاشی طور پرکشمیریوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کشمیری سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرکو ایک جہنم بنا دیا ہے جہاں لاکھوں کشمیریوں کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کشمیریوں کو مودی حکومت کے ہندوتوا حملوں سے بچانے کی خاطر تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔