بھارت میں کشمیری طلبا کا مستقبل خطر ے میں

نئی دہلی (کے پی این ) دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جبکہ بھارت عسکریت پسندی سمیت مختلف بہانوںسے کشمیری طلبا کو تعلیم کے حق سے محروم کر رہا ہے۔ایک جاری میڈیا رپورٹ کے مطابق اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی حکومت کی طرف سے نافذ فوجی محاصرے کے بعد سے کشمیری طلبا کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ،مسلسل چھاپے، کرفیو اور دیگر پابندیاں کشمیری طلبا کی تعلیم کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔بھارتی فوجی کشمیری طلبا کو روزانہ کی بنیاد پرمحاصروں اورتلاشی کی ان کارروائیوں کے دوران ہراساں کررہے اور تذلیل کا نشانہ بنارہے ہیں۔ بھارتی حکام کی طرف سے انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی سے علاقے میں تعلیم کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اٹھائے جانے کے خوف سے والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے کتراتے ہیں جبکہ جعلی مقابلوں میں مقامی نوجوانوں کو قتل کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔کشمیری طلبا بھارت کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں انہیں ہندوتوا کے غنڈے ہراساں کررہے ہیں اور انہیں تعلیمی اداروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ مودی کی قیادت میں بھارت کشمیری طلباء کو بیرون ملک کالجوں میں پڑھنے سے بھی روک رہا ہے۔ تعلیم میں مسلسل رکاوٹ کشمیری طلبا میں ذہنی تناو کو جنم دے رہی ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ مودی کے دور میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے طلبا کا مستقبل تاریک سے تاریک ترہے