اعتماد یا ان ہائوس 180دن!

پی ٹی آئی کی حکومت کے آزادکشمیر میں 180دن پورے ہوتے ہی راستوں میں کانٹوں کی بوچھاڑ، صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کیلئے 13افراد کی لسٹ دے دی،ہر صورت میں ایڈجسمنٹ ہونی چاہیے ، بصورت دیگر آزادکشمیر کی حکومت کو 180دن پورے ہوتے ہی وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عبدالقیوم خان نیازی اعتماد کا ووٹ لیں گے اگر صدر آزادکشمیر کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو پھر ان ہائوس تبدیلی متوقع ہوسکتی ہے جس کیلئے اندرون خانہ پی ٹی آئی کے وزراء اپوزیشن کا ساتھ دے سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف نے آزادکشمیر میں ابھی تک کوئی منصوبہ شروع نہ کیا ، جس سے مہنگائی پر کنٹرول کیا جاسکے ، عوام پی ٹی آئی سے مایوس نظر آرہی ہے ، بہت سے حلقوں میں سے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما دوسری جماعتوں کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ الیکشن کے وقت وفاق نے فی امیدوار الیکشن کے اخراجات کیلئے 5کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا مگر امیدواروں نے الیکشن کے وقت وہ پیسے خرچ نہ کرسکے اب محکمہ لوکل گورنمنٹ کی ملی بھگت سے لوگوں کو یہ کہہ کر اسکیمیں دی جارہی ہیں کہ یہ ہم اپنی جیب سے دے رہے ہیں ، مختلف یونین کونسلز میں کمیٹیاں بنائی گئی جہاں اپنے من پسند لوگوں کو واٹر سپلائی اور سڑکوں کی پختگی اور دیواروں کی اسکیمیں دی جارہی ہیں جس میں لوکل گورنمنٹ کا تعاون ساتھ ہے ، 5کروڑ پوراتو خرچ ہونا مشکل ہے البتہ 2,3کروڑ روپے خرچ کئے جاسکتے ہیں باقی جیب میں! جبکہ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کام شروع کردیا ہے جو الیکشن سے پہلے خرچ کے جانے تھے اب خرچ کئے جارہے ہیں ، ایک طرف تحریک انصاف میرٹ اور کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کررہی ہے مگر دوسری جانب خود اس کی لوٹ مار میں ملوث ہے، احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کاموش،آج تک کوئی بڑی مچھلی گرفت میں نہ آسکی ، پی ٹی آئی
کے وزراء میں تین گروپ زیر غور ہے جن میں ایک وزیر اعظم،دوسرا تنویر الیاس اور تیسرا صدر جماعت ہے جبکہ ہر گروپ کا اپنا اپنا ورک ہے جس کی وجہ سے نظریاتی کارکن بھی پریشان ہیں جب صوابدیدی عہدوں پر ایک گروپ تیار کرتا ہے تو دوسرا جزوی طور پر ساتھ دینے کا اعلان تو کرتا ہے مگر تیسرا اس کے نفی وہ اپنی لسٹ تیار کرتا ہے ، آزادکشمیر میں پی ٹی آئی کے حکومت سو دن سے اوپر کا وقت گزار چکی ہے مگر ابھی تک حکومتی کارکن خوش نظر نہیں آرہے ، الیکشن میں اُنہی چہروں کو سامنے لایا جاتا ہے جن کا ماضی میں پی ٹی آئی کیلئے کوئی رول نہیں جبکہ اس وقت پی ٹی آئی آزادکشمیر میں مصیبت میں ہے،مہنگائی پر قابو پانے کیلئے 1فیصد بھی کامیاب نہ ہوسکی، اگر پی ٹی آئی نے اعتماد کا ووٹ لینا ہے تو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭