یتیم کشمیری بچوںکی بھارتی منڈیوں میں فروخت پر دو افراد گرفتار اس سلسلے میں پامپور پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ بھی د رج کر لیا گیا

سری نگر() یتیم کشمیری بچوں کی بھارتی منڈیوں میں فروخت کے انکشاف کے بعد جنوبی کشمیر میں  این جی او کے دفتر سیل کر دیا گیا جبکہ دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس سلسلے میں پامپور پولیس اسٹیشن میں  ایک مقدمہ  بھی د رج کر لیا گیا ہے ۔ پولیس کے مطابق محمد امین راتھر ولدغلام محمد راتھر ساکن بمنہ سرینگراوراعجاز احمد ڈار ولد عبد الحمید ساکن خانقاہ باغ پانپورکو گرفتار کر لیا گیاہے،کے پی آئی  کے مطابق مقبوضہ کشمیر  انتظامیہ نے تمام ڈویژنز میں یتیم کشمیری بچوں کی صورت حال معلوم کرنے کے لیے  فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کورونا کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچے بھارتی منڈیوں میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ نے مقبوضہ علاقے میں انتہائی ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم گلوبل ویلفیئر چیری ٹیبل ٹرسٹ جو بچوں اور خاندانی بہبود کے لیے کام کر رہی ہے ایسے یتیم بچوں کو بھارتی بازاروں میں فروخت کر رہی ہے۔ ۔اخبار کے مطابق جب تفتیشی رپورٹر نے این جی او سے وابستہ اسرار امین نامی شخص سے دہلی کے ایک ہوٹل میں رابطہ کیا تو اس نے ایک یتیم بچے کو 75ہزار روپے میں فروخت کرنے کی پیشکش کی جبکہ دو یتیم بچوں کے لیے ڈیڑھ لاکھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔اس ہوشربا انکشاف نے سوشل میڈیا پر شدید غم وغصے کو جنم دیا ہے اور لوگوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکی تحقیقات کرے۔ کشمیری صحافی سمیر یاسر جو نیویارک ٹائمز کے لیے بطور رپورٹر کام کرتے ہیں نے فیس بک پر لکھا کہ سرینگر کے علاقے چھانہ پورہ میں ایک یتیم خانے کا ایک غیر کشمیری مالک اس شرمناک سرگرمی میں ملوث ہے جسکے خلاف متعدد شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ادھربچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ کشمیری بچوں کی اس طرح کی بے خوف اسمگلنگ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کی بھر پور پشت پنائی کے بغیر ممکن نہیں ہے جو پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو کم کرنے کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔