
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے
تحریر فخرالزمان سرحدی
۔پیارے قارئین کرام!نوجوان کسی بھی قوم اور ملک کا قیمتی سرمایا ہوتے ہیں۔ان کی اچھی اور بہترین تربیت سے نہ صرف ان کی زندگی سدھر سکتی ہے بلکہ قوم اور ملک کا مستقبل بھی درخشاں بن سکتا ہے۔علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ بہت خوبصورت انداز سے فرماتے ہیں۔عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں۔۔نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔۔نہ ہو نو مید،نو امیدی زوال علم و عرفاں ہے۔۔امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں۔۔تعلیم ایسی صفت ہے جو نوجوانوں کی سیرت و کردار میں تبدیلی نو پیدا کرتی ہے۔اندر کی دنیا میں ایک حیرت انگیز تبدیلی پیدا کرتی ہے۔انسان تعلیم سے نہ صرف فطرت کے مقاصد سے آگاہی حاصل کر پاتا ہے بلکہ خودی کی بلندی کے راز ہائے سر بستہ سے بھی آگاہی پاتا ہے۔نوجوان تو اس قوم اور ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ان کے اندر خوبیدہ اور مخفی صلاحیتوں میں نکھار تعلیم کے اعجاز سے ہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔کلام اقبال اور عصر حاظر کے کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تو آج بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔تحریک پاکستان کے تناظر اور عالم اسلام کی بیداری کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کی ضرورت اسی طرح ہے۔اس وقت کے نوجوان کی تربیت ایسے خطوط پر کی جائے کہ وہ اس راز سے آشنا ہو پائے کہ غلامی سے بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔۔۔ایک مثالی معاشرے اور اسلامی فلاحی مملکت وقت کی ضرورت بھی ہے۔جب قوم کی رگوں میں غیرت کا خون دوڑتا ہے تو سوچ کے زاوئیے بدل جاتے ہیں۔مثبت سوچ اور اچھے رویئے تعلیم و تربیت ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔نوجوان کی شخصیت سازی اور کردار سازی کے احسن عمل میں ہم سب کے عمل دخل کی ضرورت ہے۔نوجوان نسل کو احساس دلانا ہے کہ:- شکار مردہ سزاوار شہباز نہیں۔غیرت،حمیت اور خوداری ایسے اوصاف حمیدہ ہیں۔جو انسان کو دنیا کے ہر قسم کے طوفان بلاخیز سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔نوجوان نسل کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ۔۔۔کبھی اے نوجوان مسلم تدبر کیا بھی تو نے۔۔۔وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو اک ٹوٹا ہوا تارا۔ہمارا نوجوان ہمارے لیئے قابل فخر ہے جو شدید سردی اور سخت گرمی میں بھی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرتا ہے۔ناموس وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتا۔یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ تعمیر وطن میں نوجوان نسل کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔اتحاد،تنظیم،ایمان سے قومی یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔ایسے میں افراد کا کردار بہت اہم ہے۔انسان کو انسان کی غلامی سے نجات کی ضرورت ہے۔ظلم کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے۔انسانیت کی قدرومنزلت اور وقار کی بلندی کی ضرورت ہے۔عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالات و واقعات کا سامنا کرنا سب کا فریضہ ہوتا ہے۔اس ضمن میں یہ بات زور دے کر کہی جاتی ہے کہ جس ملک اور قوم کا نوجوان با شعور ہوتا ہے وہ بلندیوں کی منزلوں تک بآسانی پہنچ پاتی ہے۔مسائل میں گھری یہ مملکت اس بات کی متقاضی ہے کہ مناسب حل تلاش کیا جائے۔با مقصد زندگی کا تصور صرف اور صرف تعلیم سے اجاگر ہوتا ہے۔نوجوانوں کو اس حقیقت سے آشنا کرنا ہے کہ آ میں تجھ کو بتاوں تقدیر امم کیا ہے۔شمشیرو سناں اول،طاوس ورباب آخر۔آج قومی افق پر نمودار ہونے والے حالات ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ضمیر بھی زندہ رہے اور زندگی بھی باعزت بسر ہو۔نوجوان نسل کو اچھے اور مثالی کام کرنے کی ترغیب دی جائے۔برائی سے بچنے کی تلقین کی جائے۔اسلامی طرز زندگی اختیار کرنے پر مائل کیا جائے۔اسلامی نظام سے مسائل حل ہونے کا تصور پختہ کیا جائے۔ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے ۔اس طرح نوجوان ایک ذمہ دار شہری بن کر قابل تعریف کردارادا کر نے کے قابل ہو سکتا ہے۔اس کی امیدی قلیل اور مقاصد جلیل ہوتے ہیں۔مغربی طرز کی جمہوریت سے مسائل پیدا تو ہوتے ہیں۔حل ہونے کی امید کم ہی ہوتی ہے۔اسلامی نظام حیات سے قوم کے نونہالان کی تربیت کی جائے تو نہ صرف شخصی غلامی کا تصور ختم ہو پاتا ہے بلکہ خودی بلند ہوتی ہے۔احساس ہمدردی بھی پختہ ہوتا ہے۔منزلیں طے ہوتی ہیں۔نگاہ بلند،سخن دلنواز،جاں پرسوز جیسی خوبیان پیدا ہوتی ہیں۔منشیات،فحش مواد سے دوری کا احساس پیدا کرنے کا کام بھی معاشرتی طور پر لازم ہے۔اخلاقی اور قانونی جرائم سے دور رکھنا بھی وقت کا تقاضا ہے۔معاشرتی زندگی اور نوجوان نسل،اس بات سے بھی ان کو آگاہ کیا جائے۔تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے شاہین پیدا کریں۔کرگس کا جہاں اور شاہین کا جہاں اور کا فرق ان پر واضح کریں۔ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ،پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔جیسے اوصاف کی اہمیت اجاگر کی جائے۔اچھا انسان ہونا وقت کا تقاضا ہے۔مسائل کا حل ہونے کے قابل بنانا ہے۔امید کی کرن پیدا کرنا اور مایوسی سے دور رکھنا ہے۔سیاسی بصیرت،اخلاقی وقار کا جذبہ پیدا کرنا بھی لازم ہے۔ملک اور قوم کی ترقی کا راز بھی پختہ تر کرنا ہے۔امید کی جا سکتی ہے کہ مختصر سی گذارشات کی روشنی میں اپنے نوجوان کی بہتر تربیت کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قیمتی اثاثہ کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔