
مقبوضہ کشمیر میں قتل کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائے حریت کانفرنس اور دوسری جماعتوں کے رہنماوں کا مطالبہ
سری نگر( )کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی،مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام ، جموں و کشمیر سیاسی مزاحمتی تحریک کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصعب اور جموں وکشمیر سوشل اینڈ جسٹس لیگ کی رہنما فاطمہ جان اور دیگر رہنمائوں او ر تنظیموں نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں اقوام متحدہ اور ایمنسٹی پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں قتل کے واقعات کی تحقیقات کرائیں۔ الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں میں بھارتی فوج ، پولیس اورخفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ملوث ہیں جس کا واحد مقصد کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے ۔انہوں نے سوگوار خاندانوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعان کے صدر آغا سید حسن نے وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے پے در پے سانحات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان سانحات کو کشمیر کے روایتی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ رواداری کے لئے سمِ قاتل قرار دیا۔آغا سید حسن نے سنگم، سرینگر میں ہندو اور سکھ برادری. سے وابستہ دو اساتذہ کی ہلاکتوں کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو دنوں کے اندر 5 شہریوں کی ہلاکتوں کے دلدوز سانحے پیش آنا انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان انسانیت سوز سانحات کی صرف مذمت ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں ان اسباب و محرکات کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیے جو ایسے واقعات کا موجب بنتے ہیں۔آغا سید حسن نے مزید کہا کہ انسانیت سوز واقعات کشمیر کی غیر یقینی صورتحال کا شاخسانہ ہے اور یہاں انسانیت کو بچانے کے لئے ہند و پاک کے درمیان کئی سال سے معطل شدہ مذاکرتی عمل کی بحالی ناگزیر ہے۔آغا سید حسن کے مطابق کشمیر کے سلگتے حالات میں اس طرح کے سانحات جلتے پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے اس سانحے میں مارے گئے اساتذہ کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے اس غیر انسانی فعل کے لیے مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے نیا کشمیر بنانے کے دعوئوں نے حقیقت میں اسے جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا واحد مفاد کشمیر کو اپنے انتخابی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے۔دریں اثنا جموں و کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ مقبوضہ علاقے میں شہریوںکی ہلاکتوںمیںحالیہ اضافہ خاص طور پر وادی کشمیر میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قتل کے واقعات میںدرحقیقت بھارتی فوج اوراسکی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں تاکہ حریت قیادت اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پربدنام کیاجاسکے ۔