امریکی قانون سی اے اے ٹی ایس اے کے تحت ترکی اور چین کے بعد بھارت پر پابندی کا امکان روس سے ایس۔400 میزائل نظام کی خریداری پر بھارت اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی میزائل نظام کی خریداری خطرناک اور کسی کی بھی سلامتی کے حق میں نہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ

نئی دہلی() روس سے ایس۔400 میزائل نظام کی خریداری پر بھارت اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔امریکہ کے قانون سی اے اے ٹی ایس اے(کاٹسا)کے تحت ترکی اور چین  کے بعد بھارت  پر پابندی عائد ہو سکتی ہے ۔  وی او اے کے مطابق بھارت کے دورے پر  نئی دہلی میں موجود امریکی نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شرمن نے کہا ہے کہ پابندی کے سلسلے میں کوئی فیصلہ صدر جو بائیڈن اور وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن ہی کر سکتے ہیں۔ وینڈی شرمن نے بھارت کی روس سے ایس۔400 میزائل نظام کے حصول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکہ کی نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شرمن نے بھارت کے سیکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ایس۔400 میزائل نظام کی خریداری خطرناک ہے اور کسی کی بھی سلامتی کے حق میں نہیں ہے ۔انہوں نے بھارت کے روس سے ایس۔400 میزائل نظام کی خریداری سے اختلاف کیا اور اسے سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔انہوں نے ایس۔400 نظام کی خریداری پر ممکنہ پابندیوں کے تناظر میں اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ نظام کی خریداری کے سلسلے میں امریکہ کا موقف دنیا کو معلوم ہے۔ یہ خطرناک ہے اور کسی کی بھی سلامتی کے حق میں نہیں ہیں۔ان کے اس بیان سے ایک روز قبل بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ 2018 میں پانچ ارب 43 کروڑ ڈالر کے جس سودے پر دستخط ہوئے تھے وہ برقرار ہے۔ اس کی پہلی کھیپ رواں برس فضائیہ میں شامل ہو سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ میزائل نظام کی پہلی کھیپ رواں ماہ بھارت پہنچنے والی ہے۔