
کشمیری صحافیوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری اور ہراسانی کا سامنا ہے ہیومن رائٹس واچ بھارت میںانسانی حقوق کے کارکنوں،صحافیوں اور حکومت کے دیگر ناقدین کو الزامات لگا کر خاموش کرایا جارہا ہے
نیویارک () نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارت میںانسانی حقوق کے کارکنوں،صحافیوں اور حکومت کے دیگر ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے ان پر ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں جیسے سیاسی الزامات لگائے جارہے ہیں رہی ہیں۔ جموں وکشمیر میں کشمیر میں صحافیوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے ایک بیان میں انسانی حقوق کے کارکنوں،صحافیوں اور حکومت کے دیگر ناقدین کے خلاف کارروائی میںجموں و کشمیر میں چار صحافیوں ہلال میر ، شوکت موٹا ، محمد شاہ عباس اور اظہر قادری کے گھروں پر چھاپوںکا بھی حوالہ دیاگیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 8 ستمبر کو جموں و کشمیر میں پولیس نے چار کشمیری صحافیوں ہلال میر ، شاہ عباس ، شوکت موٹا اور اظہر قادری کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کے فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ ہلال میر نے اطلاع دی کہ پولیس والے میرا اور میری اہلیہ کا پاسپورٹ بھی لے گئے۔ حکام نے چاروں کو پوچھ گچھ کے لیے سری نگر پولیس اسٹیشن طلب کیا ۔ جموں وکشمیر میں کشمیر میں صحافیوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ بی جے پی حکومت نے اگست 2019 میں ریاست کی خود مختار آئینی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔جون میں ، اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر اور صوابدیدی حراست کے بارے میں ورکنگ گروپ نے ہندوستانی حکومت کے نام خط میں صوابدیدی حراست اور جموں و کشمیر کے صحافیوں کو دی جانے والی دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا ۔” اس خط میں فہد شاہ ، عاقب جاوید ، ساجر گل ، اور قاضی شبلی کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے ، ۔ اکتوبر 2020 میںاخبار کشمیر ٹائمز کی بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی اداکار سونو سود ، انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر اورنیوز پورٹلز نیوز لانڈری اور نیوز کلک پر انکم ٹیکس حکام کے چھاپوں سمیت ایسے متعدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔۔ انسانی حقوق کے تنظیم نے بیان میں صحافی رانا ایوب کے خلاف اتر پردیش پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کا بھی ذکر کیاہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ یہ چھاپے بھارتی حکومت کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی اورپر امن اجتماع کے حق پر بڑھتے ہوئے کریک ڈائونزکا حصہ ہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کے کارکنوں ، صحافیوں ، ماہرین تعلیم ، طلبا اور دیگر کے خلاف سیاسی عزائم پر مبنی مجرمانہ مقدمات درج کئے ہیں جن میں دہشت گردی اور ملک سے بغاوت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ بھارتی حکومت سچ سامنے لانے والے گروپوںکے خلاف فارن فنڈنگ اور مالی بیضابطگیوںکے مقدمات قائم کر رہی ہے ۔انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم نے بیان میں مزید کہاکہ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور پریس کلب آف انڈیا نے متعدد بار آزاد ذرائع ابلاغ کو ہراساں کئے جانے کا سلسلہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔بیان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور دو یونین ٹیریٹریز میں اس کی تقسیم کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کوقابض حکام کی طرف سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاریوں سمیت بڑے پیمانے پر خوف ودہشت کا سامنا ہے ۔ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)کی طرف سے نئی دلی میں انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ہرش مندر کے گھر اوردفتر پر چھاپوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مودی حکومت کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے ۔بیان میں کہاگیا کہ صحافی رانابھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی سخت نقا د تھیں اورانہیں حکومت کے حامیوںکی طرف سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور سوشل میڈیا پر ان کی کردار کشی کی گئی ۔ اداکار سونو سود کے گھر پر انکم ٹیکس کے حکام کے چھاپوںکا ذکر کرتے ہوئے بیان میں کہاگیا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی مفاد پر مبنی تھی کیونکہ اداکار کو انسانیت کی خدمت پر ملک بھر میں عوام ، میڈیا اور اپوزیشن کے سیاست دانوں سے بڑی پذیرائی مل رہی تھی۔ ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کیلئے ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے بیان میںکہاکہ مودی حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنے اوربھارتی شہریوں کے بنیادی حقوق کااحترام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کے چھاپوں کا مقصد ناقدین کو ہراساں کرنا اور دھمکانا ہے ، اور تمام نقادوںکو خاموش کرانے کی ایک کوشش ہے۔ان مظالم سے بھارت میں بنیادی جمہوری ادارے کمزور ہوں گے اور بنیادی آزادیوں کاخاتمہ ہو گا۔جنوری میں ایچ آر ڈبلیو نے اپنی ورلڈ رپورٹ2021 میںمقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈائون ، دلی میں ہونے والے فسادات اور غیر سرکاری تنظیموں کے غیر ملکی فنڈز پر کریک ڈان کا نوٹس لیا تھا۔