
جموں وکشمیر میں بھارتی جبر اب تمام آوازوں کو بھی خاموش کر رہا ہے۔ غیر ملکی اخبار کی رپورٹ 2300 سے زائد افراد کو بغاوت اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا
سری نگر() بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعدبھارتی فورسز نے مسلم اکثریتی علاقے جموں وکشمیر میں طاقت کے استعمال سے اپنی گرفت مزید سخت کردی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھارت کے مظالم اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ متنازعہ علاقے میں اب تمام آوازوں کو بھی خاموش کیاجارہا ہے۔ شعرا اور صحافی اب بھارتی جبر کی زد میں ہیں۔ آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جس سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اوروادی میں اضافی فوجی تعینات کئے گئے،امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جموں وکشمیر کے صحافیوں کو بھی بھارت سے باہر جانے سے روک دیا گیاہے اور پولیس نے وادی کی صورتحال کے بارے میں ٹویٹ کرنے والے صحافیوں پر انسداد دہشت گردی کے الزامات لگانے کی دھمکی دی ہے۔کے پی آئی کے مطابق بھارتی میڈیاکے ایک ادارے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کے بعد سے 2300 سے زائد افراد کو بغاوت اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور نعرے لگانے یا سوشل میڈیا پر سیاسی پیغامات پوسٹ کرنے جیسی سرگرمیوں کو جرم قرار دیاگیاہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پولیس نے پرامن احتجاج کو بھی روک دیا ہے اور جب رواں سال 5 اگست کومقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے دوسال مکمل ہونے کے موقع پرکشمیری دکانداروں نے اپنی دکانیں نہیں کھولیں تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اور لوہے کی سلاخوں اور بلیڈوں سے لیس بھارتی اہلکاروں نے سرینگر میں دکانوں کے تالے توڑ دیے۔پولیس تالے توڑنے والوں کے ساتھ تھی اور انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کررہی تھی