
بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں دو سال میں2300 کشمیریوں پر مقدمہ کسی عدالتی کارروائی کے بغیر954 افراد کو پی ایس اے کے تحت جیل بھیجا گیا
نئی دہلی()غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق بھارت کے سخت گیر قانون یو اے پی اے کے تحت گزشتہ دو سال میں مقبوضہ کشمیر کے 2300 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ یو اے پی اے کے تحت حراست میں لیے گئے46 فیصد افراد تاحال حراست میں ہیں۔ ایک دوسرے سخت قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان دو سالوں میں مقبوضہ کشمیر میں954 افراد کے خلاف کیس بنایا گیا۔ ان میں سے 30فیصد افراد تاحال مقبوضہ کشمیر اور بھارتی جیلوں میں حراست میں ہیں۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے پولیس ریکارڈ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت2019 میں699 جبکہ2020 میں160 افراد کو حراست میں لیا گیا2021 میں جولائی کے خاتمے تک95 افراد کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیاان میں سے284 ابھی تک قید میں ہیں۔کے پی آئی کے مطابق قابل ذکر ہے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق بھارت کے سخت گیر قانون یو اے پی اے کے تحت بھارت مخالف جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایک دوسرے سخت قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ا کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔ متعدد کمسن بچوں کو بھی اب تک اس قانون کے تحت قید کیا جا چکا ہے۔