
مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف صحافیوں کوسات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت تین صحافیوں پر مقدمہ درج ہے
سری نگر() مقبوضہ کشمیر میںغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق سخت گیر قانون یو اے پی اے کے تحت کشمیری صحافیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے ، اس ایکٹ کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سرکردہ صحافی یوسف جمیل نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال پورے ہونے پر ایک مضمون میں لکھا ہے ۔ یوسف جمیل نے وی او اے پورٹیل میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایک صحافی کی حیثیت سے مجھے ان دو برس کے دوران کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ وادی کشمیر میں صحافیوں کے لیے ہر ایک دن جدوجہد سے بھرپور ہے لیکن پانچ اگست 2019 کے بعد ان کے لیے اپنے فرائض انجام دینا اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔معلومات تک رسائی پر پابندی، تمام قسم کی مواصلاتی سہولیات کی معطلی اور دوسرے سخت گیر اقدامات کی وجہ سے ہمیں مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اگرچہ مواصلاتی سہولیات بعد میں مرحلہ وار بحال کی گئیں، صحافیوں کو ہراساں اور انہیں غیر جانبدار رپورٹنگ سے باز رکھنے کی کوششیں تیز کی گئی ہیں۔۔ یہی نہیں صحافیوں کی سرِ راہ مار پیٹ کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔گزشتہ برس اپریل میں تین کشمیری صحافیوں کے خلاف پولیس نے ایف آئی آرز درج کرلی تھیں۔ ان میں سے دو پر جن میں ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ بھی شامل ہے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق سخت گیر قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس ایکٹ کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔دو جون 2020 کو حکومت نے جس نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا تھا اس کے تحت حکومت کو ‘جعلی’، ‘غیر اخلاقی’ یا ‘ملک دشمن’ خبروں کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور یہ ایسے صحافی یا میڈیا ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر سکتی ہے جو اس کی دانست میں اس قسم کی خبریں لکھنے، شائع یا نشر کرنے کا مرتکب پایا جاتا ہے۔متعلقہ عہدیداروں نے اس سخت گیر میڈیا پالیسی کا دفاع کیا ہے۔ پچاس صفحات پر مشتمل اس پالیسی دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ "جموں و کشمیر میں امن و امان اور سلامتی کے مسائل درپیش ہیں، سرحد پار سے حمایت یافتہ در پردہ جنگ کا سامنا ہے اور ایسی صورتِ حال میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن کو خراب کرنے کی سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔