
5 اگست 2019 کے بعد بھارت کیخلاف کشمیریوںکے جذبات میں تیزی آئی ہے، عنایت اللہ اندرابی
لندن5اگست() لندن میں مقیم کشمیری دانشور سید عنایت اللہ اندرابی نے 5اگست2019کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے اسٹریٹجیک انتظام کی اہم تاریخوں میں سے ایک ہم تارک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ دن تھا جب نئی دہلی نے نام نہاد خصوصی حیثیت کے تمام فریب اور دکھاوے بالاخر ختم کر دیے اور ایک جارح ملک کے طور پرکشمیریوں کا مکمل طور پر محاصر ہ کر لیا۔
سید عنایت اللہ اندرابی نے اپنے ٹویٹس میں کہا کہ بھارت کی کشمیر پر مستقل طور پر قبضہ کرنے کی مہم 5 اگست 2019 کو عروج پر پہنچی۔ ، انہوں نے کہا کہ نئی دہلی نے 27 اکتوبر 1947 کو اپنے فوجی حملے سے سفاکانہ مہم کا آغاز کیاتھا۔ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں بھوکی اشرافیہ ابھری جس نے بھارتی قبضے کو سیاسی طور پر محفوظ کرنے کے قابل بنایا ۔ انہوںنے کہا کہ 9 اگست 1953 کو کشمیر میں پراکسی حکمرانی کا دور شروع ہوا جس نے آرٹیکل 370 کو کھوکھلا کردیا۔کشمیری دانشور نے کہا کہ 24 فروری 1975 کو کشمیر میں بھارتی حکمرانی کی منظم مخالفت کو ٹالنے کے لیے شیخ اندرا معاہدہ ہوا اور بالآخر بھارت نے 5 اگست 2019 کو نام نہاد خصوصی حیثیت کے تمام دکھاوے اور فریب کو ختم کردیا اور اس نے ایک جارح کی طرح علاقے کے لوگوں کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ انہوں نے لکھا کہ کشمیر اور اس کے لوگوں کے لیے 27 اکتوبر 1947 اس لحاظ سے ایک اہم سنگ میل کے دن کی حیثیت رکھتا ہے کیوںکہ اس دن مسئلہ کشمیرپیدا ہوا ، کشمیری گزشتہ 73برس سے بھارت قبضے سے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیںاور اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اور بقا کی یہ جنگ تین نسلوں سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوںکے جذبات میں مزید تیزی آئی ہے۔