مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا ز قیادت نے بھی یوم سیاہ منایا 5 اگست کوجمہوریت اور جمہوری حقوق کا گلا گھونٹا گیا تاری گامی

سری نگر() مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا ز قیادت نے بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر  جمعرات کو  یئوم سیاہ منایا۔ بھارت نواز جماعتوں نے  پانچ اگست کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن جمہوریت اور جمہوری حقوق کا گلا گھونٹا گیا۔ پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس سمیت چھے بھارت نواز جماعتوں کے اٹھاد  پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ (پی اے جی ڈی  نے لوگوں سے جموں و کشمیر کے خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے پرامن طریقے سے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔کے پی آئی کے مطابق  دو برس قبل  پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ  قائم کیا گیا تھا۔۔ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے ترجمان محمد یوسف تاریگامی نے  ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کا نیا کشمیر ایک مذاق ثابت ہوا ہے اور آج جموں و کشمیر دہلی سے جس قدر دور ہے اتنا ماضی میں کبھی نہیں رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 5 اگست کو آئین ہند پر ہونے والے حملے کے دو سال مکمل ہوگئے، جس حملے سے دفعہ 370 کو ختم کر کے جموں و کشمیر کے بھروسے کو کچل دیا گیا۔پی اے جی ڈی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ تاریخی ریاست جموں و کشمیر کی حیثیت کو گھٹایا گیا اور اس کو 2 وفاقی ریاستوں میں منقسم کیا گیا۔ یہ فیصلے لوگوں کی مرضی کے برعکس لیے گئے۔یہ بھی یوسف تارے گامی نے کہا ہے کہ دفعہ35 اے کی منسوخی سے جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کی حیثیت کو بے کار بنا دیا گیا ہے اور نوکریوں اور اراضی کے حقوق کو ختم کیا گیا جس سے لوگوں میں عدم تحفظ اور عدم اعتماد کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔محمد یوسف تاریگامی نے اپنے بیان میں کہا کہ دفعہ 370 کی تنیسخ کے ساتھ ہی جمہوریت اور جمہوری حقوق کا گلا گھونٹنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ گزشتہ 2 برسوں سے یہ بات صاف طور سے واضح ہو چکی ہے کہ حکومت ہند ایسے غیر قانونی اقدام اٹھانے پر کیوں بضد تھی۔ان دو برسوں کے دوران یہ دیکھا گیا کہ کس طرح لوگوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، ان کو نوکریوں سے محروم رکھا جا رہا ہے اور ان سے قدرتی وسائل پر حقوق کو چھینا جا رہا ہے۔جموں کشمیر پیپلز کانفرنس نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں5 اگست کو ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ اور محرومی کے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پردیش کانگریس پی سی کے ترجمان عدنان اشرف میر نے ایک بیان میں کہا کہ 5 اگست کو بے اختیاری کے دن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ اس ذلت کی یاد دہانی کراتا ہے جس کا جموں و کشمیر کے عوام کو نشانہ بنایا گیا۔