مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد 410 کشمیر شہید ہوئے محمد یاسین ملک،شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی ، عبدالحمید فیاض سمیت 14887 پابند سلاسل ہیں

سری نگر() 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے  کے بعد کشمیریوں کی قید وبند  کے732   روزمکمل ہوگئے ہیں ۔80 لاکھ  سے زیادہ کشمیری  تاحال محصور ہیں۔ اس دوران)  5 اگست 2019  سے 31 جولائی 2021 تک) بھارتی فوج نے 410 نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کو قتل کر دیا ہے ۔    اس دوران تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیرمین محمد اشرف صحرائی  سمیت59 کشمیریوں کو دوران حراست یا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ بھارتی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 2040 کشمیری شدید زخمی ہوئے،  ان میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے 584 افراد بھی شامل ہیں ۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر  کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت 14887 پابند سلاسل ہیں،سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق تا حال گھروں میں نظر بند ہیں۔ قید کشمیریوں میں سرکردہ رہنماوںمحمد یاسین ملک،شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور دیگر شامل ہیں ،  جیلوں میں رہنما متعدد بیماریوںکا شکار ہو چکے ہیں اور انہیں طبی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں  کوکشمیری  قیدیوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالنا چاہیے ۔ انکی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے اپنا ایک وفد بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں کے دورے پر بھیجنا چاہیے ۔ ۔ ان دو سالوں میں بھارتی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں22 خواتین بیوہ 56 بچے یتیم ہوگئے ،115 خواتین  کی بے حرمتی کی گئی ۔ صرف جولائی 2021 میں 37 کشمیری شہید ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں جامع مسجد سری نگر سمیت تمام مساجد زیادہ تر مساجد  بند ہیں ۔ بھارتی حکومت نے5 اگست 2019  کے بعد پابندیاں  بعد میں کرونا وائرس کے نام پر جاری رکھیں۔