
سجاد احمد صوفی کی گرفتاری اور اسے ہراساں کرنے والے افسروںکے خلاف کارروائی کی جائے غیرمقامی افسروں کے متعلق تبصرہ کرنے والے شہری سجاد احمد صوفی کو رہا کیا جائے۔ حسنین مسعودی
سری نگر( ) بھارتی پارلیمنٹ میں نیشنل کانفرنس کے رکن ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے وسطی کشمیر میں بھارتی خاتون افسر کی طرف سے سیاسی کارکن کو جیل بھجوانے پر شدید ردعمل کا اظہاکرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی آئین میں آزادی اظہار رائے کی ضمانت دی گئی ۔سرکاری غرور یاانا اس کے خلاف ورزی کاجواز نہیں بخشتا۔ وسطی کشمیر میں سجاد احمد صوفی کی گرفتاری اور اسے ہراساں کئے جانے کے ذمہ دارتمام افسروںکے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صفاپورہ کے سجاداحمد نامی شہری ،جس نے غیرمقامی افسروں کے متعلق تبصرہ کیاتھا،کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لیفٹینٹ گورنرکے مشیر ،جو ایک مقا می ہے،سے کافی توقعات تھیںاورایسی توقعات کسی غیرمقامی افسر سے نہیں کی جاسکتی۔ایک بیان میں مسعودی نے کہا کہ ایساتبصرہ کرنے پرایک غیرمقامی افسر نے اعتراض کیااور نفرت انگیزی کے طور اس کے خلافدشمنی کو فروغ دینے کا ایک کیس دائر کیاگیا۔ متاثرہ کواگرچہ عدالت نے ضمانت پررہا کردیالیکن اس کے خلاف مزید کیس دائر کئے گئے اور پولیس تھانہ میں اس کی اسیری کوطول دیاگیا۔