
عالمی برادری کشمیر کی ابتر صورتحال کا فوری طور پر سنجیدہ نوٹس لے عبدالصمد بھارت نے جموںو کشمیر کے لوگوں سے زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیا ہے
سری نگر( ) اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے علیل چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر کی ابتر صورتحال کا فوری طور پر سنجیدہ نوٹس لیںبھارتی فورسز کی طرف سے جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر ظلم و جبر مار دھاڑ جاری ہے، جو انسانی حقوق کی صریحا اور منظم خلاف ورزیاں ہیں . ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی کارروائیاں جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنا حق حق خود ارادیت کے مطالبے کے حصول سے ہرگز روک نہیں سکتیں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں اس وقت نہ تو اظہار رائے کی آزادی اور نہ ہی دین اسلام کی آزادی کا حق پایا جاتا ہے حتی کہ بھارت نے جموں کشمیر کے لوگوں سے زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیا ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بڑی تعداد میں بھارتی سکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی خطے کی امن اور سلامتی کیلئے ایک بڑا اور سنگین خطرہ ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارت نے جموں کشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے اسکی مزید تقسیم در تقسیم اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کا منصوبہ بنا لیا ہے جو عالمی قانون اور قوام متحدہ و سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارت نہ تو جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت میں تبدیلی لاسکتا ہے اور نہ ہی جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنے غیر قانونی اقدامات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تنازعہ ہے جسکا پاکستان اسکا ایک فریق ہے لہذا وہ جموں کشمیر میں غیر قانونی بھارتی اقدامات کے خلاف اپنی آواز اٹھاتا رہے گا۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارت جموں کشمیر کے لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ بھارتی سکورٹی فورسز کی طرف سے جموں کشمیر کے لوگوں اور نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جا ری ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ حریت پسند لیڈروں اور کارکنوں کو بھارتی سکورٹی فورسز نے غیر قانونی طور پر بھارت اور جموں کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند رکھیں ہیں جنہیں طبی اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات اور سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔