
بھارتی سپریم کورٹ کی مودی حکومت کی ویکسی نیشن پالیسی پر کڑی تنقید
نئی دلی 03جون : بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کی کورونا وائر س سے بچائو کی ویکسین پالیسی پر شدید تنقید کی ہے ۔
سپریم کورٹ نے حکومت کوتین اقسام کی ویکسین کی خریداری کے اعدادو شمار پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ عدالت نے کہا کہ 45سے زائد عمر افراد کو کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین مفت دینے اور اس سے کم عمر افراد کیلئے ویکسین کیلئے پیسوں کی ادائیگی کی پالیسی بادی النظر میں ظالمانہ اور بلا جواز ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ اعدادوشمار میںمرکزی حکومت کی طرف سے ویکسین کی خریداری کے تمام آڈرز کی تاریخوں کی بھی وضاحت کی جانی چاہیے ۔ بھارت میں اس وقت کورونا وائر س سے بچائو کی دو مقامی ساختہ آکسفورڈ آسٹرا زینیکاکی کووی شیلڈ (Covishield) ، بھرت بائیوٹیک کی کوواکسن(Covaxin)اورروسی ساختہ اسپوتنک وی ویکسین لوگوںکو لگائی جارہی ہیں۔ عدالت عظمی نے حکومت سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ ملک بھر میں ویکسی نیشن مہم کے پہلے تین مراحل میں کتنے فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی ڈوز اور کتنے لوگوںکودونوں ڈوزیں دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے ملک کے باقی ماندہ لوگوںکو ویکسین دینے کے منصوبے بارے میں بھی دریافت کیا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ باقی لوگوںکو رواں سال دسمبر تک مہلک وائرس سے بچائو کی ویکسین لگادی جائے گی ۔ سپریم کورٹ میں بھارتی حکومت کی ویکسی نیشن پالیسی پر سماعت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب متعدد ریاستیں ویکسین کی قلت کی شکایت کر رہی ہیں۔