میرواعظ عمر فاروق گزشتہ 20 ماہ سے زیر حراست ہیں؛ رمضان المبارک کے دوران بھی رہا نہیں کیا گیا: حریت کانفرنس

مقبوضہ کشمیر، 16 اپریل: حریت کانفرنس نے جمعہ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں بھی حریت چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو پولیس حراست سے آزاد نہیں کیا گیا ۔بیان کے مطابق میرواعظ جو کشمیر میں ایک ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس وقت بھی نظربند ہیں ۔حریت رہنما کو مرکز کی جانب سے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے اعلان سے ایک دن قبل 4 اگست 2019 کو ان کے گھر پر حراست میں لیا گیا تھا۔حریت کی جانب جاری ایک بیان میں خلاصہ کیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے اور اس سے کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید دھچکہ پہنچا ہے کہ رمضان کے بابرکت مہینے کے پہلے جمعہ کو بھی سری نگر کی تاریخی اور مرکزی جامع مسجد کا ممبر خاموش ہے کیونکہ میرواعظ کشمیر کو جبری حراست میں رکھا ہے۔۔ حریت بیان کے مطابق میرواعظ ایک ممتاز مذہبی رہنما ہیں جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے ۔ جمعہ اور اہم مواقع پر جامع مسجد سری نگر میں خطبہ ادا کرنے کا مزہبی فریضہ انجام دیتے آرہےہیں اور مزہب اسلام کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتےہیں۔حریت نے ریاستی انتظامیہ سے پوچھا ہےکہ کیا وعظ و تبلیغ اوردعاؤں سے روحانی سکون حاصل کرنا وادی کشمیر میں امن کے لئے خطرہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہاں کی جامع مسجد کے محراب و ممبرسال بھر اور باالخصوص ماہ رمضان میں گونجتا ہے جس سے روحانی حاصل کرنے کے علاوہ قادر مطلق سے پرجوش اور للٰہیت کے ساتھ دعائیں مانگی جاتی ہیں اور اس میں شرکت کرنے والوں کو روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔ حریت بیانیہ کے مطابق جب موجودہ وبائی صورتحال میں رجوع الی اللہ کی زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے، "جامع مسجد کے ممبر و محراب کو زبردستی خاموش رکھا جاتا ہے”۔بیان کے مطابق 20 ماہ سے میرواعظ زیر حراست میں ہیں اور انہیں میرواعظ کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔حریت نے کہا کہ میرواعظ کو مسلسل بند رکھنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈے آزمانے سے حالات میں سدھار لانا ممکن نہیں بلکہ برعکس اس کے اس طرح کے ہتھکنڑے آزمانے سے ہمارے ایمان و یقین کو اور تقویت ملے گی