
مقبوضہ کشمیر‘ خفیہ معلومات لیک ہونے کا ڈر
نیم فوجی دستوں کیلئے حساس علاقوں اور آپریشنزمیں موبائل فون کے استعمال پر پابندی
رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ ان فونزکے زیادہ سے زیادہ اور بغیر ممانعت استعمال سے سیکورٹی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ سی آر پی ایف نے فونوں کو کیمروں کے ذریعہ ریکارڈنگ سہولیات اور انٹرنیٹ کے استعمال سے دو زمروں میں تقسیم کیا ہے،جن کو اسمارٹ فون اور موبائل کا نام دیا گیا ہے،جبکہ انکے استعمال کو کم حساس،درمیانہ درجے کے حساس اور انتہائی حساس کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔گائڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ اسمارٹ فونزکا استعمال کم حساس والے علاقوں میں بغیر کسی بندش کے کیا جاسکتا ہے،جہاں پر متحرک ڈیوٹی اور عام دستاویزات ہوتے ہیں۔ گائڈ لائنز میں کہا گیا ہے اسمارٹ فونزکی اجازت ہیڈ آفس کی منظوری کے بعد ہی دی جاسکتی ہے،تاہم کیمرہ اور ریکارڈر سے لیس کسی بھی موبائل کے استعمال پر مما نعت ہے تاکہ ادارے کی رازداری کی ریکارڈنگ نہ کی جاسکے۔درمیانہ درجے کے حساس علاقوں میںآپریشنوں کے دوران متحرک ڈیوٹی پر مامور افراد جہاں پر براہ راست رازداری کی دستاویزات ہوں ،جیسے مخصوص برانچ،فیلڈ ڈیوٹی آپریشن و اسپتال شامل ہیں، میں فون استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ انتہائی حساس والے علاقوں میں وہ مقامات جہاں پر آپریشن روموں یا کانفرنس ہالوں میں معلومات سے متعلق بروقت مباحثوں اور تبادلہ خیال،پیش رفت ہو۔موبائل پرمعلومات کا اشتراک فونوں کیلئے پہلے ہی جاری رہنما خطوط کے مطابق ہوگا،جبکہ موبائل کیمرہ یا ریکارڈر کو ادارے کے کسی بھی رازداری کی معلومات کو ریکارڑ کرنے پر سخت ممانعت ہوگی۔مزید کہا گیا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکار ڈیوٹی کے دوران احتیاط سے موبائل فونز کا استعمال کریں،کیونکہ ڈیوٹی کے دوران بہت زیادہ ذاتی فون کالوں سے ڈیوٹی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔سماجی میڈیا کا استعمال کرنے پر رہنما خطوط میں کہا گیا ہے سماجی میڈیا کی ربطہ گاہوں،بلاگوں اور وئب سائٹوں پر حساس مواد یا پیغام درج کرنے پر انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ گائڈ لائنز میں کہا گیا ہے کسی بھی تعیناتی،یا معلومات سے متعلق مخصوص دستاویزات، پرمتعلقہ قوانین کے تحت مخصوص کیسوں میں مجرمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔