ایل او سی پر جنگ بندی، کئی سالوں بعد گھروں میں شادی بیاہ کی تقریبات شیلنگ کے مستقل خوف سے لو گ شادی بیاہ کی تقریبات کے نظارے بھول گئے تھے

مینڈر : لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد کئی سالوں بعد ایل او سی پر آباد کشمیریوں نے شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد بھی شروع کر دیا تھا۔ پاکستان اور بھارت افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے  کی وجہ سے  ایل او سی پر  دونوں طرف آباد کشمیریوں  کے گھروں میں شادی بیاہ کی  بڑی تقریبات کا انعقاد نہیں ہوتا تھا،  شادی کی تقریب کو مختصر رکھا جاتا تھا۔ اس سال  فروری کے بعد سے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد شروع ہوا  ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں نے بھی تقریبات کو گائوں سے باہر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے گھروں میں شادیوں کا جشن منانا شروع کردیا ہے۔ کے پی آئی  کے مطابقپونچھ اور راجوری اضلاع میں شادی والے گھروں میں چراغاں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔ ایسے نظارے شلنگ کے مستقل خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ بھول گئے تھے۔پونچھ کے علاقے سائوجیاں میں صفر لائن کے ساتھ گاوں گگریہ کے ایک دولہا پرویز احمد نے بتایا "ہم بہت طویل عرصے کے بعد ایسی تقریب  دیکھ کر خوش ہیں”۔احمد ان خوش قسمت نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے گذشتہ ہفتے شادی کی لیکن ابتدائی دنوں میں خوف تھاجب شادی کی تقریب میں اس کے دو رشتہ دار سفید جھنڈے لے کر گاوں کے راستے دلہن کے گھرگئے۔