
مقبوضہ جموںوکشمیر میں تحریک آزادی کے غداروں کے گرد گھیرا تنگ: رپورٹ
سرینگر30مارچ : غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںتحریک آزادی کے غداروں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا رہا ہے خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد جب بھارت نے تمام بین الاقوامی وعدوں اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کردیاتھا تب سے یہ غدار خصوصی نشانے پر ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں مقبوضہ جموںوکشمیر میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسلرز (بی ڈی سی) پر حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے آلہ کاروں کو کشمیریوں کا غدارسمجھا جاتاہے اور وہ شدید حملوں کی زد میں ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حالیہ حملے بی جے پی کے آلہ کار بننے والے سجاد لون، الطاف بخاری اور مظفر بیگ کے لئے ایک سبق ہے اور خوفناک انجام ان کا منتظر ہے کیونکہ کشمیری عوام سمجھتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مقبوضہ جموںوکشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ان غداروں کو مہروں کے طورپر استعمال کررہی ہے۔ رپورٹ میںمقامی کشمیریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ تحریک آزادی کے یہ غدار کشمیریوں کے لئے ذلت و رسوائی کا باعث ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعدبھارتی کٹھ پتلیوں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور دیگر کے ساتھ کیا گیا ناروا سلوک سجاد، الطاف اور مظفر جیسے آلہ کاروںکے لئے ایک ڈرائونا خواب ہے کہ مودی انہیں استعمال کرکے کوڈے دان میں پھینک دے گا اور ان کا انجام بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کی طرح ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری مقبوضہ جموںوکشمیر میں مودی کی کٹھ پتلیوںکو سزا دے کراس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔