دفعہ 370کی منسوخی نے کشمیریوںکو بددل کر دیا ہے، ڈاکٹر کرن سنگھ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ظالمانہ انداز میں منسوخ کیاگیا

جموں12 مارچ : بھارت کے سابق وزیر ڈاکٹر کرن سنگھ نے انتہائی ظالمانہ انداز میں دفعہ 370 کی منسوخی پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت منسوخ کر کے اسے یونین ٹیریٹری کا درجہ دینے سے کشمیریوںمیں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ بھارت سے بددل ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر کرن سنگھ نے جو سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ کے بیٹے ہیں نیوز ویب سائٹ دی پرنٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنا ایک ظالمانہ اقدام تھا۔ انہوںنے کہاکہ اس اقدام نے کشمیریوں کو افسوس ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈوگروں نے در حقیقت جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ انضمام کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اب وہ ملازمتوں کے بارے میں پریشان ہیں اور اس اقدام نے کشمیریوں کے بھارت سے بد دل کر دیا ہے ۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس خصوصی حیثیت کے بارے میں سابقہ ریاست جموںوکشمیر سے وعدہ کیاگیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری چاہتے ہیں کہ ان کی یہ خصوصی حیثیت برقراررہے بلکہ کشمیری رہنماءچاہتے ہیں کہ یہ حیثیت مذید مضبوط ہونی چاہیے ۔ ڈاکٹر کرن سنگھ نے جو سابق سفارتکار اوربھارتی وزیر بھی ہیںنے کہاکہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کا تاج ہے اور اب اس کی حیثیت کوکم کر کے یونین ٹیریٹریٹری کر دیا گیا ہے اور یہ اب ایک ریاست بھی نہیں ہے۔ لہذا پہلے جموںوکشمیر کی ریاست کو بحال کیاجاناچاہیے جس کے بعد سیاسی عمل شروع کرنا ہوگا۔سابق وزیر نے کہا کہ انہیں کشمیری رہنماو ¿ں کے بارے میں تشویش ہے جنہیں اگست 2019 میںدفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے نظربند کردیا گیا تھا ۔