بھارتی قید میں الطاف احمد شاہ کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیا جائے ۔کشمیری قیادت

مظفر آباد:کشمیری حریت پسند قیادت نے انسانی حقوق کے عالمی  اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری رہنما  الطاف احمد شاہ کے  بھارتی قید میں ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیا جائے ۔ الطاف احمد شاہ  شوگراور گردوں کے کینسر میں مبتلا تھے تاہم انہیں تہاڑ جیل سے انہیں ہسپتال منتقل نہ کر کے مرنے دیا گیا انہیں اس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا جب وہ آخری سانسیں لے رہے تھے ۔ الطاف احمد شاہ گزشتہ شب نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ 2017 سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تھے ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے وائس چیئرمین غلام احمد گلزار اور جنرل سیکریٹری مولوی بشیر عرفانی نے سرینگر سے جاری ا ایک تعزیتی بیان میں الطاف احمد شاہ کی بھارتی جیل میں شہادت کو تحریک آزادی کیلئے لاتلافی نقصان قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ بابائے حریت مرحوم سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ گزشتہ 5برس سے تہاڑ جیل میں قید تھے اور شوگراور گردوں کے کینسر میں مبتلا تھے ۔

انہوں نے کہاکہ جیل انتظامیہ کے انتقامی رویہ کی وجہ سے انہیں نظربندی کے دوران علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کا کینسر جسم کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا۔انہوں نے کہاکہ ان کے اہلخانہ نے ان کا مناسب علاج کرانے کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا تاہم کوئی شنوای نہیں ہوئی۔ بالآخر وہ جیل میں ہی شہید ہوگئے ۔

حریت رہنماؤں نے کہا کہ حریت قائدین کا دوران حراست قتل یا وفات ہی ان کی بھارتی جیلوں سے رہائی کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور اقوام عالم سے پر زور اپیل کی کہ وہ بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کی حالت زارکانوٹس لیں اور ان کی رہائی کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور مسلم لیگ جموں کشمیر کے قائمقام چیئرمین عبدالاحد پرہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں تہاڑ جیل میں الطاف احمد شاہ کی وفات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی جیلوں میں کشمیری حریت پسند وں کی زندگیوں کو شدیدخطرہ لاحق ہے انکو دانستہ طورپر موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جیل میں کینسر کے مرض میں مبتلا الطاف احمد شاہ کوعلاج ومعالجہ کی سہولت سے محروم رکھا گیا جسکی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ کشمیری حریت پسندوں کے بھارتی جیلوںمیں دوران حراست قتل پر اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماؤں محمود احمد ساغر،محمد فاروق رحمانی شیخ عبدالمتین، الطاف احمد بٹ،سید منظور احمد شاہ، امتیاز وانی اور حاجی محمد سلطا ن نے اپنے بیانات میں الطاف احمد شاہ کی دوران حراست وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف احمد شاہ کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کو کبھی پر نہیں کیاجاسکے گا۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

تحریک حریت جموں کشمیر کے کنوینئر برائے پاکستان و آزاد کشمیر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ الطاف احمد شاہ کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے ۔ گزشتہ پانچ سال سے مسلسل قیدو بند کی صعوبتیں اور ظلم و تشدد کو پامردی کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے تحریک حریت کے فعال ترین راہنماالطاف احمد شاہ،قائد انقلاب سید علی گیلانی کے داماد، ماورائے عدالت بھارتی قید خانے میں موت کی نیند سلائے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے حق میں گونجنے والی ایک اور توانا آواز کو خاموش کرکے بھارتی خفیہ ایجنسیاں بالآخر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوئیں۔ الطاف احمد شاہ بھارتی تشددکی وجہ سے کئی عارضوں میں مبتلا ہوچکے تھے۔ علاج معالجہ اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی صحت کے ساتھ دانستہ طور کھلواڑ کیا گیا۔ جس کا نتیجہ بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوا۔

حریت رہنما کا کہنا تھا کہ  تحریک حریت جموں کشمیر نے بار بار اسیران کی حالت زار پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری پر بھی اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے پر زور دیا،لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس معاملے میں اسلامی ممالک سمیت تمام بین الاقوامی برادری اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ۔بین الاقوامی برادری کا یہ دوہرا معیار اقوام کے درمیان بداعتمادی ہی نہیں بلکہ نفرت کی دیواریں کھڑی کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی نہ صرف ان نفرت کی دیوراوں کو اور بلند کررہی ہے بلکہ خود اپنے وجود کو بھی دا پر لگا رہی ہے۔

غلام محمد صفی نے الطاف احمد شاہ کی دوران حراست شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ایجنسیوں کی اس بزدلانہ کاروائی کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ہر اس آواز کو دبانا اور ختم کرنا چاہتا ہے جو بے خوف اور بیباک ہوکر حق کی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف احمد شاہ حق خود ارادیت کے پر جوش وکیل اور تحریک جہاد کشمیر کااثاثہ تھے وہ باطل سے دبنے والے تھے نہ ظالم کیسامنے جھکنے والے۔ ان کی شہادت یقینا تحریک آزادی کے لیے بالعموم اور تحریک حریت کے لیے بالخصوص انتہائی نقصان کا باعث ہے۔

غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ فرضی الزامات کے تحت حریت پسند کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنا ، ان کا خاطر خواہ علاج نہ کرنا ، اسیر قائدین کی گرتی صحت کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت جیلوں میں محبوس حریت راہنما ں اور کارکنان کو بنیادی طبی سہولتوں سے محروم کرکے ا ن کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرکے بین الاقومی قوانین کی صریحا خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ ایسی حالت میں بین الاقومی برادری اور خاص طور انسانی حقوق کی خاطر کام کرنے والی تنظیموں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا نوٹس لے کر انسانی زندگیوں کے اتلاف سے ظالم وجابر بھارت کو روکے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھاکربھارت کو جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔

مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سابق رکن اور کشمیری رہنما مولانا غلام نبی نوشہری نے الطاف احمد شاہ کی شہادت پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کے قتل کا نوٹس لیں ۔ اس سے قبل سید علی گیلانی مرحوم کو دس سال سے زائد عرصہ تک گھر میں نظر بند کر کے انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا حتیٰ کہ دوران نظر بندی ان کی شہادت ہوئی اسی طرح تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی بھی جموں کی جیل میں شہید ہو گئے تھے انہیں بھی علاج معالجے سے محروم رکھ کر مرنے دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران براہ راست  الطاف شاہ کی موت کی ذمہ دار ہیں۔واشنگٹن میں قائم ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی  نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ الطاف شاہ کی دوران حراست شہادت کا نوٹس لیں ان کے قتل کی تحقیقات کرائی جائیں ۔

جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے سید علی شاہ گیلانی شہید کے داماد قائد حریت الطاف شاہ کی بھارتی قید میں شہادت پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 5لاکھ شہداء اور قائدین حریت کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی کشمیر جلد یا بدیرہندوستان کے تسلط سے آزاد ہو گا کشمیر ی ہندوستان کے تمام تر مظالم کے باوجود آزادی کے لیے پرعزم ہیں

انہوں نے کہاکہ بیس کیمپ کی حکومت اس نازک اور اہم مرحلے پر کردار ادا کرے جماعت اسلامی شہداء کشمیر کے ادھوے مشن کی تکمیل تک پشتیبانی کا حق ادا کرتی رہے گی ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کی سینئر رہنمااور جموں وکشمیر ماس موومنٹ کی چیریپرسن فریدہ بہن جی نے سینئر حریت رہنما الطاف احمد شاہ کی بھارت کی بدنام تہاڑ جیل میں دوران حراست وفات پر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیری قیادت کو بھارتی ٹارگٹ کلنگ منصوبے کا حصہ قراردیا ہے ، گردوں کے سرطان میں مبتلا الطاف احمد شاہ گزشتہ شب نئی دلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ 2017 سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تھے ۔

فریدہ بہن جی نے اپنے تعزیتی بیان میں الطاف احمد شاہ کے دوران حراست قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرانے کے لئے کشمیری قیادت کو دوران حرات قتل کررہی ہے ۔ انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے اس مذموم منصوبے کے خلاف احتجاج کریں۔

کشمیری خاتون رہنمانے الطاف احمد شاہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہنماکشمیریوں کے عظیم ہیرو تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ الطاف احمد شاہ کی دوران حراست وفات بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی فسطائی حکومت ایک سازش کے تحت آزادی پسند قیادت کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ گردوں کے سرطان میں مبتلا ہونے کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں نظربندی کے دوران علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا تھا جس کی وجہ سے ان کا کینسر جسم کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا۔

انہوں نے کہاکہ ان کے اہلخانہ نے ان کا مناسب علاج کرانے کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا تاہم کوئی شنوای نہیں ہوئی۔ بالآخر وہ جیل میں ہی شہید ہوگئے ،فریدہ بہن جی نے کہا کہ حریت قائدین کا دوران حراست قتل بھارتی حکومت کے اس مذموم منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت کشمیری قیادت کو ایک کے بعد ایک جیلوں میں قتل کرکے کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

فریدہ بہن جی نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ بھارتی جیلوں میں کشمیری نظربندوں کی حالت زارکانوٹس لیں اور ان کی رہائی کیلئے بھارت پر دبا بڑھائیں۔بھارتی جیلوں میں کشمیری حریت پسند وں کی زندگیوں کو شدیدخطرہ لاحق ہے انکو دانستہ طورپر موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ اوردیگر رہنماؤں شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک ،آسیہ اندرابی، ایاز اکبر، نعیم احمد خان، شاہدالاسلام ،فاروق احمد ڈار، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نصرین اور دیگر کی زندگیوں کو بھی شدیدخطرہ لاحق ہے ۔

انہوں نے عالمی برادری خاص کراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظربندوں کی زندگیاں بچانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں فریدہ بہن جی نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت بھی کیا