
کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے کالے قانون کے تحت کشمیری نوجوانوںکی گرفتاریوں کی مذمت
سرینگر11 مارچ : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں درجنوں کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری اور ان پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گزشتہ جمعہ کو سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں تاریخی جامع مسجد کے باہر حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد بھارتی پولیس نے سرینگر میں گھروں پر چھاپے مارکر دو درجن سے زائد نوجوانوںکو گرفتار کرلیاتھا۔ ان میں سے کم از کم 15نوجوانوںکے خلاف کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا تھا۔ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخ سے ایک دن قبل 04 اگست 2019 کو میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظربند کردیاتھا جس کے بعد سے وہ مسلسل نظربند ہیں۔حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کشمیری نوجوانوںکی گرفتاریوںکی مذمت کی ۔ انہوںنے بھارت کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے نام نہاد دعویٰ کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام کیلئے بھارت کایہ دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ بھارت نے ان کے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کو سلب کر رکھا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری عوام خصوصا نوجوانوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے بھارت انہیں بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنارہا ہے ۔ انہوںنے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوںکوزبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداءنے بھارتی تسلط سے آزادی کے مقدس مشن کیلئے اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کیاہے۔ حریت ترجمان نے جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے کشمیریوں کے عزم کااعادہ کیا۔ انہوںنے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور مہذب دنیا پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جار ی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کاسخت نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کے جلد حل کیلئے اپناکردار اد ا کریں۔