
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک اور بھارتی فوجی نے خود کشی کر لی 2007 کے بعد خود کشی کرنے والے اہلکاروں کی تعداد495 ہو گئی ہے
سری نگر : وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میںجمعرات کو ایک اور بھارتی فوجی نے خود کشی کر لی ہے ۔ سپاہی امر جیوتی کی خود کشی کے بعد 2007 سے سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی فورسز اہلکاروں کی تعداد495 ہو گئی ہے ، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے میںپانچ بھارتی فوجی خود کشی کر چکے ہیں۔کے پی آئی کے مطابق وسطی ضلع بڈگام میں تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار نے جمعرات کو سروس رائفل سے خود پر گولی چلاکر اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔سپاہی امر جیوتی کی خود کشی کا واقعہ بڈگام کیکے شیخپورہ علاقے میں قائم سی آر پی ایف کیمپ میں صبح پیش آیا۔ امر جیوتی ساکن کیرالہ جس کا تعلق سی آر پی ایف کی79ویں بٹالین سے تھا، کو نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔یاد رہے کیرن سیکٹر کے کچل نامی علاقے میں تعینات سپاہی تری وید پرکاش نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب نا معلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی چلائی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا تھا۔اس سے قبل جمعرات کو سری نگر میںلیفٹیننٹ کرنل سودیپ بھگت نے خود کشی کی تھی ۔ بھارتی فوجی اہلکار مقبوضہ کشمیر میں غیر معمولی صورت حال میں کام کر رہے، سخت ڈیوٹی ، چھٹی نہ ملنا ، افسروں کی طرف سے توہین امیز رویے اور مسلسل ھنگامی صورت حال میں رہنے کی وجہ سے فوجیوں میں خود کشی کا رحجان بڑھ رہا ہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ2007 کے بعد ہندوستانی فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے 495اہلکاروں نے خود کشی کی ہے جبکہ سینکڑوں افراد نے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ بھارتی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے 2019 تک بھارت میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے 1113 واقعات رپورٹ کیے گئے۔۔وزیر مملکت برائے دفاعی امور شریپد نائیک نے گزشتہ برس دسمبر میں لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ خودکشی کے ان 1113 کیسز میں سے فوج میں 891، بھارتی فضائیہ میں 182 اور بحری فوج میں 40 اہلکاروں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔