
عظیم آدرشوں کے آمین
ماجد اعوان
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔اس دنیا میں ہر انسان اورذی روح نے موت کا ذائقہ ایک دن چکھنا ہے۔انسان جہاں تمام مخلوقات میں سے اشرف ہے وہیں زندگی کے معاملے میں سب سےبڑھ کرعدم یقینی کا بھی شکار ہے۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب کہاں کس حالت میں ساتھ چھوڑ جائے۔ایک سانس کے بعد اگلا سانس لینا نصیب میں ہے یا نہیں اس کی کوئی گارنٹی یا ضمانت نہیں۔
قدم قدم پر موت کو ساتھ لئے چلنے والے انسان دنیا کے عظیم لوگ ہوتے ہیں۔یہ لوگ اپنے لئے سیاست کے خاردار راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو عوام کے بہتر مستقبل کے لئے قربان بہتر مستقبل اورجدوجہد سے جوڑ کراپنی سوچ، فکر اور جدوجہد کی بنیادپر اپنا آج دوسروں کے کل کے لئے قربان کر دیتے ہیں۔چائیے وہ اس آنے والے کل کو دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں۔لیکن ان کا یہ اعتماد اور نظرئیے پریقین غیر متزلزل ہوتا ہے۔دیکھا جائے تو انسان کی زندگی چندپل کے سوا کچھ اور کچھ نہیں۔اس کے بعد مادی وجود خاک میں مل جاتا ہے اور پیچھے رہے جاتی ہےتو صرف گزاری ہوئی زندگی اور طرزِ حیات۔جو عظیم لوگ جدوجہد کواپنا طرزِ حیات بنا لیتے ہیں تو یہ ہی طرزِ حیات ہے جو طے کرتا ہےکہ آپ کے بعد لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ایک بہترین جدوجہد کی بنیاد پر اس ڈنیاسےجا کر بھی ژندہ رہا جا سکتا ہے۔جانا تو ایک نہ ایک دن ہےہی۔۔۔۔۔۔۔تو کیوں نا ایسی زندگی گزاری جائے جو دوسروں کے لئے مثال بن جائے
آج کے کالم میں تذکرہ دوایسے نوجوانوں کا جنھوں نے ہمیشہ ظلم،جبراوراستحصال کے خلاف جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔افضال سلہریا اور امجد شاہسوار دونوں کا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے۔دونوں نے اپنی طلباء سیاست کا آغازریاست کی ترقی پسند طلباء تنظیموں سے کیا۔اورشاہد یہان کی سیاسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ دونوں نامساعد حالات، معاشی اورریاستی جبر کے باوجود اپنے نظرئیے پر قائم رہے کرتاریخ میں امرہو گئے۔یہ دونوں نوجوان ریاست جموں کشمیر کی نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل ہیں ان کی خدمات کسی ایک طبقے،علاقےیا جماعت کے لئے نہیں بلکہ سماج کے لئے ہیں۔آج کل کی نوجوان نسل کو جہاں ان نوجوانوں پرفخر کرنا چائیے۔وہیں ان نوجوانوں کی زندگیوں کے نشیب و فراز کا مطالعہ بھی کرنا چائیے تا کہ نئے نوجوانوں کو سیکھنے کا موقعہ ملے۔افضال سلہریا اور امجد شاہسوارزندگی کےہرموڑپرنہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑے اورسچائی کی جیت کواپنے نام کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے۔دونوں انقلابی نوجوانوں کوعظیم جدوجہد اور خدمات پر خراجِ تحسین۔