کابینہ نے قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کیوں مسترد کی ؟

سچ تو یہ ہے ۔

بشیر سدوزئی،

کشمیر کی آزادی کے حوالے سے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اچانک انقلابی نعرے کے ساتھ نمایاں ہوئے رہے ہیں۔ نوجوانوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پاکستان کو مخاطب کیا کہ ” ہمیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیوں نہیں بولنے دیتے۔ ہمیں بات کرنے دو،جس کا مسئلہ ہے وہ بات ہی نہیں کر سکتا۔گلگت کا معاملہ کیسے حل کیا، کون ہیں آپ ؟۔ اسٹیٹ سبجکٹ گلگت بلتستان میں ہم نے پہلے ختم کیا۔ اب ہم ہندوستان کو کہتے ہیں کہ تم نے اسٹیٹ سبجکٹ ختم کیا۔5 اگست کے بعد آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ذہین میں الجھن ہے۔ہم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو تحفظ نہیں دے پا رہے۔ راجہ فاروق حیدر خان اس سے قبل بھی اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ زبان میں سختی اور جملے میں ترشی تھی ۔حتی کہ ایک موقع پر ان کے اسٹاف کے کسی فرد نے روکنے کی کوشش کی کہ میڈیا میں لائف جا رہا ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ جانے دو مجھے پروا نہیں ۔ راجہ صاحب تحریک آزادی کی سفارتی کاری کا حق واپس مانگ رہے ہیں جو چوہدری غلام عباس اور سردار محمد ابراہیم خان نے معائدہ کراچی میں حوالے کیا تھا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ راجہ صاحب 2021 کے انتخابات میں بطور نعرہ ایسا کہہ رہے ہیں یا ان کو آخری عمر میں احساس ہوا کہ ایسی وزارت عظمی کا کیا فائدہ، جہاں میں کشمیر کے مجاہدوں کی وکالت نہیں کر سکتا، میں اقوام متحدہ یا کسی بڑے بین الاقوامی فورم پر بول نہیں سکتا ۔ میری بات توجہ سے کوئی سنتا نہیں ۔ اس لیے کہ میں کرسی پر نہیں، ہوا میں ہوں۔ شائد وزیراعظم آزاد کشمیر کو احساس ہو رہا ہے ایسے بیس کیمپ کا کیا فائدہ جو نہ بیس ہو نہ کیمپ۔ 1960 کی دہائی میں جب مقبول بٹ، رشید حسرت، عبدالخالق انصاری، میر عبدالقیوم، ڈاکٹر فاروق حیدر اور ان کے نوجوان ساتھی کشمیر کی آزادی کے لیے مسلحہ جدوجہد کی بات کر رہے تھے۔ اس وقت کے ایچ خورشید نے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ سیاسی تحریک اور سفارت کاری کو مضبوط کئے بغیر مذاہمتی تحریک کی کامیابی ممکن نہیں جو قوم سفارت کاری میں آزاد نہیں وہ آزادی کی جنگ کیسے لڑ سکتی ہے۔ اگر لڑتی بھی ہے تو دنیا اس کو تسلیم نہیں کرے گی اس کو دہشت گردی کہا جائے گا ۔ لہذا سفارت کاری کے لئے آزاد کشمیر کی حکومت کو ڈوگرہ کی جانشین حکومت کے طور پر تسیلم کر کے اس حکومت کو آزادی کا بیس کیمپ اور سفارت کاری کے اختیارات دئے جائیں تاکہ کشمیری دنیا کو یہ بتائیں کہ بھارت نے ہماری ریاست پر ناجائز طریقہ سے قبضہ کیا ہوا ہے ۔یہ حکمت اور تدبر آزاد کشمیر کے قائدین کو آج سمجھ آ رہا ہے ۔ جب ایک لاکھ نوجوانوں کی قربانی کے باوجود بھارت نے کشمیر میں غیر قانونی قبضے کو مضبوط کر کے مذاہمتی تحریک کو تقریبا کچل دیا ہے۔ مگر ان کی بین الاقوامی سطح پر کوئی ترجمانی کرنے والا نہیں اور نہ ہی بھارت کو سفارتی محاذ پر کبھی مذاہمت کا سامنا رہا ۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق کو وقت گزرنے کے ساتھ دنیا اتنی بھولی کہ اب بات سننے کے لئے تیار نہیں اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اخلاقیات کی تمام حدود عبور اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بام عروج دیا۔ پاکستان کے اپنے اتنے مسائل ہیں کہ وہ ان سے نکل ہی نہیں پا رہا۔ کبھی سرد جنگ میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ اور کبھی خراب معاشی صورت حال میں، اور کبھی بھارت کی طرف سے لگائے گئے دہشت گردی کے الزام کو صاف کرنے میں اس کو عشرے لگتے ہیں ۔ پاکستان کھل کر مجاہدین کی حمایت بھی نہیں کر سکتا کہ بھارت شور کرتا ہے کہ پاکستان اس کے اندر دہشت گردی کر رہا ہے ۔ یہ الزام لگانے کے لیے بھارت کبھی اپنی پارلیمنٹ پر اور کبھی اپنے فوجیوں پر خود کش حملہ کراتا ہے ۔ ایسے حالات میں خود کشمیری ہی اس کی چالوں کا جواب دے سکتے ہیں لہذا وزیراعظم آزاد کشمیر کی یہ درخواست کہ ہم پر اعتماد کریں غور طلب ہے یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے کہ سفارتی محاذ پر کشمیریوں کو آگئیں کیا جائے صدر، وزیراعظم، سپریم کورٹ اور الگ جھنڈا ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کی حکومت دو قومی نظریہ کے لیے خطرہ نہیں تو وزیر خارجہ کے اضافے سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ راجہ فاروق حیدر خان نے چوہدری غلام عباس کے سیکرٹری بشیر قریشی کے حوالے سے انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان نے قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی ان کی کشمیر پالیسی کو مسترد کر کے نئی پالیسی بنائی تھی دراصل وہ پالیسی نہیں وقت گزارنے کا فیصلہ تھا جو آج تک چل رہا ہے ۔ راجہ صاحب نے کہا کہ بشیر قریشی نے مجھے بتایا تھا کہ چوہدری غلام عباس نے قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کے موقع پر پوچھا کہ “قائد آعظم یہ بات درست ہے کہ کابینہ نے آپ کی کشمیر پالسی مسترد کر دی ہے” ۔ قائد اعظم نے جواب دیا کہ ” عباس یہ بات درست ہے”۔ چوہدری غلام عباس نے تعجب سے پوچھا کہ “قائد اعظم کی پالیسی مسترد کر دی ” قائداعظم نے جواب دیا کہ “عباس میں گورنر جنرل بھی ہوں”۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کو یہ نہیں بتایا کہ قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کیا تھی جس کو مسترد کیا گیا اور اس کے متبادل کیا پالیسی یا سوچ اپنائی گئی ۔ قائداعظم کا کشمیر پر بڑا واضح اور دوٹوک موقف تھا۔ کشمیر ان کے لئے بہت اہم ریاست تھی لیکن وہ اس پر قبضہ نہیں کرنا چاتے تھے بلکہ وہاں کے عوام کی آزادی اور ان کو مرضی کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینے کی حمایت کرتے تھے۔ جب کہ وزیراعظم لیاقت علی خان کشمیر سے زیادہ حیدرآباد کو اہمت دے رہے تھے۔ قائداعظم کشمیر میں فوج بھجنے کی حمایت کرتے تھے ۔یہ اس لیے نہیں کہ پاکستان کشمیر پر قبضہ کرے ۔ بلکہ مجائدین کی مدد کے لے فوج بھجنے کی ہدایت کی تھی ۔ لیکن وزیراعظم ایسا نہیں چاتے تھے ۔کشمیر کے بارے میں ان کی کوئی ترجیحات نہیں تھی اسی لئے سردار محمد ابراہیم خان کو کوشش کے باوجود قائد اعظم سے ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا ۔ قائد اعظم کی ہدایت پر جنرل گریسی نے یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر میں فوج بھجنے کے لیے حکومت کے سربراہ، وزیر اعظم کے تحریری احکامات درکار ہیں جو ممکن نہ ہوئے اور پاکستان کی فوج کشمیر میں داخل نہیں ہوئی۔ وہ قوتیں جو کشمیر کی آزادی میں دلچسپی رکھتی تھی انہوں نے مجبورا قبائلیوں کی مدد حاصل کی ورنہ آج مظفرآباد ہمارے پاس نہ ہوتا۔ بطور ریاست 1947ء میں وزیراعظم اور کابینہ کی ترجیح نہ ہونے کے باعث پاکستان ریاست کشمیریوں کی عملی مدد نہ کر سکی پنڈی سازش کیس اسی کا ردعمل تھا جس کو بعد میں دوسرا رنگ دیا گیا ۔ کابینہ اور قائد اعظم کے درمیان کشمیر پالیسی پر یہی تضاد تھا۔ سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی” ایمرجنسی آف پاکستان ” میں لکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دہلی میں منعقد اجلاس میں، بطور کابینہ ممبر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ہمراہ تھا اور دوسری جانب وزیر اعظم جوہر لال نہرو کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل تھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے بڑے سنجیدہ اور مدبرانہ انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا، نہرو سے کہا کہ آپ کی یہ ڈبل پالیسی نہیں چل سکتی۔ حیدر آباد کا راجہ مسلمان تھا لیکن وہاں کی آبادی کی اکثریت ہندوں تھی اس پر آپ نے قبضہ کر لیا۔کشمیر میں راجہ ہندو اور اکثریت مسلمانوں کی ہے، آپ وہاں کی اکثریت کا فیصلہ نہیں مانتے۔ نہرو تو خاموش رہا، پٹیل فورا بولا کہ مسٹر وزیر اعظم حیدر آباد کی بات چھوڑیں، جونا گڑھ بھی تو ہے۔ لیاقت علی خان اس پر خاموش رہے ۔ لیاقت علی خان کی اس پالیسی کی تصدیق سردار شوکت حیات خان نے ” گم گزشتہ قوم” میں کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ کشمیر پر حملے کے دوران ماؤنٹ بٹن لاہور آیا اور پٹیل کا پیغام پہنچایا، کہ حیدر آباد اور جونا گڑھ سے دست بردار ہو جائیں اور کشمیر لے لیں ۔ میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ یہ موقع اچھا ہے ہمیں کشمیر لے لینا چاہیے۔ تو لیاقت علی خان نے مجھے کہا کہ ” سردار صاحب میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پہنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے ۔” بس کابینہ نے یہی غلطی کی کہ قائد کی سوچ سے ہٹ کر نئی سوچ کو اپنایا جس میں بری طرح ناکامی ہوئی۔، قوموں کو اپنا حق وصول کرنے کا وہ وقت ہوتا ہے جب فیصلے کا اختیار اپنے پاس ہو۔ اس وقت فیصلے کا اختیار وزیراعظم پاکستان کے پاس تھا جو بعد میں نہ رہا۔کشمیری اور پاکستانی قیادت دونوں اس معاملے میں نااہلی اور ناکامی کا شکار ہوئی ہے ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال ان کی نادانیوں اور نالائقیوں کا نتیجہ ہے ۔ شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس کی بے شک بڑی قربانیاں ہیں لیکن وہ حقیقت پسند یا دور اندیش ہوتے تو اپنا فیصلہ خود اپنی مرضی کے مطابق مل کر کرتے۔ انہوں نے فیصلے کا وقت غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھو دیا ۔اور بعد کی چیخ و پکار کی حیثیت محض اخلاقی دہائی ہی رہی، جو اس دنیا میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی ۔ کشمیریوں کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے پورے ماضی کا از سر نو جائزہ لیں ۔ غلطیوں کا اعتراف کر کے اپنے بہتر مستقبل کا فیصلہ کریں ۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیری پہلا موقع کھو چکے۔ دوسرے موقع کو شعوری طور پر سمجھیں اور دل کی آمادگی کے ساتھ اس کو اپنے حق میں استعمال کریں ۔ کشمیریوں کے لئے آخری وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے اوپر اٹھ کر پورے معاملے پر ازسر نو غور کریں کہ آیا جتنی قربانیاں انہوں نے جان و مال کی دی ہیں ان کے پیچھے کوئی سیاسی و سفارتی تحریک ہے جو ان قربانیوں کو دنیا تک پہنچائے یا ان کی مارکیٹنگ اور سفارت کاری کرے۔ کسی بھی تحریک میں مذاہمتی تحریک کے ساتھ سیاسی قیادت، سیاسی تحریک اور کامیاب سفارت کاری بہت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر مذاہمتی تحریک میں دی جانے والی قربانیاں لا حاصل ہو جاتی ہیں ۔خدشہ ہے کہ کشمیریوں کی لاکھوں جانوں کی قربانییاں ضائع نہ ہو جائیں ۔ اس لئے کہ اس وقت کوئی مضبوط سیاسی تحریک ان کی پشت پر نہیں اور نہ ہی مضبوط سفارت کاری ہے ۔ دنیا کو قائل کون کرے ،اس مسئلے کی طرف متوجہ کون کرائے ۔لہذا وقت کا تقاضہ ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت کو ڈوگرہ کی جانشین حکومت کے طور پر تسیلم کر کے گلگت بلتستان، اور حریت کانفرنس پر مشتمل انقلابی حکومت کو تحریک آزادی میں بین الاقوامی سطح پر کردار اور سفارت کاری کے اختیارات کی ضرورت ہے ۔ جو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کا مطالبہ ہے۔