اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کی پسپائی او آئی سی بھارت کے اندرونی معا ملے پربات نہ کرے بھارت

جنیوا () اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میںاسلامی تعاون تنظیم  ( او آئی سی ) اور پاکستان کی طرف سے  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا معاملہ اٹھانے پر بھارت کو  پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ۔پاکستان نے  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری 48 ویں اجلاس میں  اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا  تھا کہ  یواین ہائی کمشنر  برائے انسانی حقوق کی سفارش پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تحقیقات کے لیے  یواین تحقیقا تی کمیشن قائم کیا جائے۔اسلامی تعاون تنظیم  ( او آئی سی )نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے لوگوں کو درپیش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرے۔جنیوامیں بھارت کے مستقل مشن کے فسٹ سیکریٹری پون باڈھے نے  پاکستان اور اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم کے تبصرے پرردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم کوبھی کونسل میں مسئلہ کشمیراٹھانے پر  ناراضگی  کا اظہار کیا  اور کہا کہ  اس گروپ کا اس مسئلہ پریابھارت کے اندرونی معاملوں پربات کرنے کوئی حق نہیں ہے۔باڈھے نے کہا کہ ہم اسلامی ممالک کی تنظیم کے جموں کشمیر سے متعلق حوالوں کومسترد کرتے ہیں ، جموں وکشمیر  بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔