
کشمیریوں کی جدوجہدآزادی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ،پروفیسر عبدالغنی بٹ
سرینگر : غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سینئر حریت رہنماپروفیسر عبد الغنی بٹ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں تنازعہ کشمیرکو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پروفیسر بٹ نے بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع کے علاقوں نائد کھائی، ڈورہ ،منڈ جی اور سوپور میں مختلف عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب پوری دنیا تنازعہ کشمیر کی وجہ سے برصغیر میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا اعتراف کرتی ہے کیونکہ تین بڑی جوہری طاقتیں بھارت ،پاکستان اور چین اب براہ راست تنازعہ کشمیر میں ملوث ہیں اوریہ صورتحال کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیارکرسکتی ہے جوپوری دنیا کے لئے تباہ کن ہوگا۔
پروفیسر بٹ نے کہاکہ اس سنگین اور خطرناک صورتحال سے بچنے کے لئے عالمی طاقتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بھارت پر دبائوڈالنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرے اور تنازعہ کشمیر کا پائیدار بنیادوں پر حل نکالے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ وقت دورنہیں جب ہماری قربانیوں کی بدولت تنازعہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا۔