
ڈو میسائل قانون میں آۓ روز ترامیم غیر ریاستیوں کو اسناد کی فراہم کرنےکی منصوبہ بند سازش کا حصہ: این سی
سری نگر// نیشنل کانفرنس نے ڈومسائل قوانین میں آئے روز ترامیم اور غیر ریاستی باشندوں کے لیے ڈومسائل سرٹیفکیٹ کی حصولی کے عمل کو آسان بنانے پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دلی میں براجمان حکمران جماعت ایک منصوبہ سازش کے تحت جموں و کشمیر میں غیر ریاستوں کو ڈومسائل فراہم کرنے میں مصروف ہے پارٹی نے کہا ہے کہ مرکز نے غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کیا اور اب ایک منصوبہ بندی سازش کے تحت غیر ریاستوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں جلد بازی کی جا رہی ہے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی اجرائی آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ ڈومسائل سرٹیفکیٹ کی اجرائی جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت کی جارہی ہے جو مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بارہ عرضی گزاروں نے قانونی طور پر سپریم کورٹ میں چلینج کیا ہے اور اس کی جوازیت اس وقت تک ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر سماعت ہے انہوں نے کہا کہ ملک کی عدلیہ کے احترام میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی اجرائی تب تک بند ہونی چاہیے جب تک نا 5 اگست کے فیصلوں سے متعلق عدالت عظمیٰ کا حتمی فیصلہ سامنے آجائے ترجمان نے کہا کہ مرکز کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر تنظیم ایکٹ 2019 کے تحت بنائے گئے قوانین کو واپس لے کر عدالت عظمی کے فیصلے کا انتظار کرے –