بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کیلئے کشمیریوں کی مرضی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ، خرم پرویز

سرینگر  غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے پانچ اگست 2019کو کی جانے والی کارروائی کشمیرکو مکمل طور پر ضم کرنے کی طرف ایک اور قدم تھا ۔ انہوںنے کہا کہ یہ ایک ایسا اقدام تھا جسکا مقصد کشمیریوں کی قیمت پر بھارتیوں کی حمایت حاصل کرنا تھا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خرم پرویز نے امریکہ کے معروف جریدے ’’ٹائیم میگزین‘‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا کہ جمہوریت میں عوام کی مرضی کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن جب جموں وکشمیر کی بات آتی ہے تو بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کیلئے یہاں کے عوام کی مرضی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ خرم پرویز جو ’’ جموںوکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے چیئرمین اور جبر گمشدگیوں سے متعلق ایشین فیڈریشن کے چیئرپرسن ہیں نے لکھا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کورونا وبا سے پہلے ہی گزشتہ برس سے کوئی ماہ سے محاصرے میں تھااور بھارتی حکومت نے تمام فون لائیں اور انٹرنیٹ بند کر دیا تھا ۔

انہوں نے لکھا کہ گو کہ فون سروس کچھ ماہ بعد بحال کی گئی لیکن فور جی انٹرنیٹ سروس اب تک بند ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بھارتی حکومت نے کوروانا وائرس کی آڑ میں جموںوکشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین لاگو کیے جو مسلم اکثریتی علاقے میں آبادیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے امکانات کے حوالے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوںنے لکھا کہ صرف ایک ماہ سے کچھ زائد کے عرصے میں چار لاکھ سے زائد افراد کو ڈومیسائل سرٹفیکٹس کا اجرا کیا گیا ۔خرم پرویز نے لکھا کہ یہ اقدام کشمیرکے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے لیے کی جانے والی رائے شماری کے نتائج کو بدل سکتا ہے۔ انہوںنے لکھا کہ جموں وکشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کی پہلی کوشش 1947میں اس وقت کی گئی جب جموںکے مسلم اکثریتی ضلع پونچھ کو محاصرے کا سامنا کرنا پڑاجس کے نتیجے میں پورے جموں کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور یہ واضح نہیں کہ کتنے لوگوں کو قتل کیا گیا لیکن اعداد وشمار کے مطابق دو لاکھ مسلمان مار دیے گئے جبکہ پانچ لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں کو پاکستان ہجرت پر مجبور کیا گیا۔انہوں نے مزید لکھا کہ جموں وکشمیر میں یکطرفہ اور غیر جمہوری تبدیلیاں، انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں، بنیادی سہولیات کی عدم فرہمی اور فوجی جمائو کی وجہ سے زمینوں پر قبضے جیسے اقدامات بین الاقوامی قانون ، اقوام متحدہ کی قراردادوں ، بھارت کے اپنے آئینی ڈھانچے اور بھارت کی طرف سے کشمیریوں سے ماضی میں کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوںنے لکھا کہ عالمی قیادت کی طرف سے بھارت کی ان کارروائیوں پر موثر طریقے سے آواز بلند نہ ہونے کی وجہ سے اسے کشمیر میں اپنی پر تشدد پالیسی جاری رکھنے کی شہہ مل رہی ہے ۔