حکومت کو مخصوص حالات میں موبائل فون سروس بند کرنے کی اجازت مل گئی

سپریم کورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فون کمپنیوں کیخلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد حکومت کو مخصوص حالات میں موبائل فون سروس بند کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے حکومت کا اجازت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فون کمپنیوں کیخلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو چھوٹے ایونٹس کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے سے روک دیا گیا تھا۔موبائل ٹیلی کام کمپنیوں کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی بڑے ایونٹ پر سروس معطل کرنا سمجھ میں بھی آتا ہے، لیکن اس طرح کسی بھی چھوٹے ایونٹ پر سروس معطل کر دینا مناسب نہیں ہے۔ اس وقت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے تھے کہ موبائل کمپنیوں والے بھی حوصلے سے کام لیں، اگر کوئی واقعہ ہوا تو موبائل کمپنی کے سربراہ پر دہشتگری کا مقدمہ ہوگا
خیال رہے کہ 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس کی بندش کو خلاف قانون اور اختیارات سے تجاوز قرار دیا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس معطل کر دی جاتی ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی تلفی ہوتی ہے جبکہ سروس کی بندش پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے لہذا عدالت حکومت کی جانب سے موبائل فون سروس کی معطلی کے اقدام کو غیرقانونی قرار دے۔تاہم آج سپریم کورٹ نے نے حکومت کا اجازت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فون کمپنیوں کیخلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق حکومت مخصوص مقامات پر موبائل فون سروس بند کر سکتی ہے۔
via urdupoint news