حکومت ڈارک ویب سے آڈیو لیک کا ڈیٹا خریدنے کی کوشش کررہی ہے، فواد چوہدری

 اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کی مکمل تحقیقات کی جائیں، حیرت ہے اس پر ابھی تک وزیراعظم ہاؤس سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ آج جو ہیلی کاپٹر حادثہ ہوا ہے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس پر دکھ کا اظہار کررہے ہیں، ملک کے لیے یہ ایک بڑا سانحہ ہے، ہیلی کاپٹر حادثے بڑھتے جا رہے ہیں، اس پر بھی ہمیں دیکھنا چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آفس کی 140 گھنٹے کی آڈیو لیک سامنے آئی ہے، ڈارک ویب پر یہ آڈیو لیک ہوئی ہے، ڈارک ویب پر پتا نہیں چلتا کہ کس نے لیک کی ہے، ڈارک ویب پر یہ سیل پر لگی ہے، ہیکر اسے 3 لاکھ 45 ہزار ڈالر کے عوض فروخت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے سے یہ ڈارک ویب پر پڑی ہوئے ہے، یہ کام عام آدمی کو نہیں پتا چلتا، ایجنسیز کا کام تھا کہ اسے چیک کرتے، اربوں روپے ایجنسیوں کو جاتے ہیں، ان کا کام تھا کہ پتا لگاتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل ایک ٹویٹر اکاؤنٹ بنا جس پر یہ آڈیو لیک سامنے آئی، حکومت کی جانب سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس آڈیو سے پتا چلتا ہے کہ ہماری حکومت کتنی اچھی گورننس کر رہی ہے، یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کو سیکیورٹی کرائسس کا سامنا ہے۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کی بھی سیکیورٹی پر سوال اٹھتا ہے، یہ ایک بہت بڑا سیکیورٹی لیپ ہے، اس بات پر حیرت ہے کہ وزیراعظم ہاؤس نے اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، حکومت پاکستان اتنی بلیک میل ہو رہی ہے کہ اب یہ ڈیٹا ڈارک ویب سے خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس میں شاید ایسی خوف زہ کرنے والی گفتگو ہے کہ شاید کابینہ چلی بھی جائے، وزیراعظم ہاؤس کی اس آڈیو لیک کی مکمل تحقیق ہونی چاہیے کہ جس کہ پہلے کلپ میں مفتاح اسماعیل کے بارے میں جو گفتگو ہو رہی ہے اس پر مفتاح صاحب کو پارٹی ہی چھوڑ دینی چاہیے۔