
مسلم بچیاں دنیا کے لیے مثال ہیں
فلسطینی بچی میار جرادت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے تباہ شدہ گھر کی سیڑھیوں پر کھڑی کہہ رہی تھی ہم اپنے ملک کو کل نہیں آج بچائیں گے انہوں نے ہمارے گھر تباہ کردیے ہیں انہیں بتادوں کہ ہم کبھی نہیں روئیں گے ہم کبھی نہیں جھکیں گے ہم اپنے گھر تعمیر کرتے رہیں گے۔
نو یا دس سال کی میار جرادت فلسطین کے جنین نامی علاقے میں ایک گائوں کی رہائشی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ان کے والد کو پہلے یہودی آبادکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا اور ان کے اور دیگر فلسطینیوں کے گھر مسمار کردیے۔ میار سے جب پوچھا گیا کہ آپ اپنے والد کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ان سے کہنا چاہوں گی کہ بابا آپ ہمارے ہیرو ہیں آپ جلد آزاد ہوں گے آزادی قریب ہے اور جیل کسی کو روک نہیں سکتی۔ اس سے ایک دن قبل مغربی کنارے کے ایک علاقے میں فلسطینیوں کے مظاہرے پر اسرائیل کے قابض اہل کاروں نے سیدھا فائر کھول دیا۔ 19 سالہ فلسطینی نوجوان نیہار امین شہید ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے نیہار کے پیٹ میں گولیاں ماریں۔ اس واقعہ سے ایک ہفتے قبل بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی قابض اہلکاروں نے آپریشن کی آڑ لے کر تین فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا۔ ایسے ظلم اور براہ راست فائرنگ کے باوجود فلسطینی نوجوان کس بہادری سے پرعزم ہے اس کا اظہار میار جرادت کی جرات اور بہادری سے ہوتا ہے۔ حالاں کہ وہ بچی ہے۔ فلسطینی شہریوں کے گھروں کو مسمار کردینا ان کی اراضی پر قابض ہوجانا ان کی فصلوں کو تباہ کرنا ان کے پھلدار درختوں کو کاٹ ڈالنا اسرائیل ریاست کی پالیسی بن گئی ہے۔ یعنی فساد فی الارض ہی ان کا مقصد زندگی ٹھیرا ہے۔ لیکن جب قرآن کی زبان میں انہیں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں فساد نہ پھیلائو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ان کا اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی بستیوں پر حملہ کراتے ہیں اسرائیل پولیس ان آبادکاروں کو تحفظ دیتی ہے اور الٹا فلسطینیوں پر تشدد کرتی ہے انہیں گرفتارکرتی ہے اور حکومتی اہلکار ان کے گھروں کو مسمار کرکے یہودی آبادکاروں کی بستیاں بساتے ہیں۔ اسرائیل کے اس رویے کی پشت پر پورا مغرب ہے لیکن امریکا کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔
جولائی 2019 میں سلامتی کونسل میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے پر مذمتی قرار داد پیش کی گئی لیکن امریکا نے اسے ناکام بنادیا۔ یہی نہیں امریکا نے اقوام متحدہ کو صاف بتادیا کہ وہ اسرائیل کی مذمت میں کوئی بیان یا قرار داد کی حمایت نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی ہمت بڑھنے کی ایک وجہ خود مسلم حکومتیں ہیں جو سرجوڑ کر اسرائیل کے خلاف متحد نہیں ہوتیں بلکہ امریکا کے اس لاڈلے بگڑی ہوئی اولاد سے رشتے جوڑنے کے بہانے تلاشتے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی دولت کو غیر دانش مندی سے استعمال کیا لیکن یہودیوں نے بڑی منصوبہ بندی سے دنیا کو اپنے جال میں پھانسا آج بیش تر کثیرالقومی تجارتی ادارے، بینک دیگر مالیاتی ادارے اور ذرائع ابلاغ کے زیادہ تر ادارے (باقی صفحہ 7بقیہ نمبر2 )
یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ یہودی امریکا اور یورپ کی معیشت کے علاوہ سیاست پر بھی بھرپور کنٹرول رکھتے ہیں۔ بیش تر ممالک میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ لہذا ایسے طاقت ور غنڈے سے ڈرنا اور دبائو میں آنا سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن پھر انسانیت اور انسانی حقوق کے چمپئن بننے سے تو گریز ہی کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کبھی کبھی اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا سوکھا سوکھا اعلان کرتی ہے۔ لیکن نہ عمل ہوتا ہے نہ کوئی نکلتا ہے۔ 2014 میں اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی عالمی سطح پر تحقیقات سے متعلق درخواست پاکستان کی جانب سے دی گئی تھی۔ پھر مئی 2021 میں غزہ پر مسلسل بمباری کے خلاف تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی قرار داد منظور ہوئی لیکن نہ پہلے کچھ نتیجہ نکلا نہ بعد میں عالمی عدالت نے 2019 میں 113 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی جس میں ثابت تھا کہ اسرائیل نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا لیکن رپورٹ بس فائلوں تک محدود رہی۔ ظاہر یہ عراق افغانستان، ایران، شام، لیبیا یا ایران کے خلاف تو نہیں تھی اور نہ ہی کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف کہ اس پر فوری عمل درآمد ہوتا اور امریکا یورپ پورا مغرب مل کر چڑھ دوڑتا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا کی تمام تر بے حسی کے باوجود فلسطینی پورے عزم اور ارادے کی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج فلسطینی بچی کہتی ہے کہ ہم روئیں گے نہیں ہم جھکیں گے نہیں تو کل یہودی فوج کے ہاتھوں گرفتار مریم افیفی مسکراتی ہے۔ مریم کے چہرے پر گولیوں اور گرفتاری کا خوف بالکل نہیں نظر آتا۔ اس نہتی لڑکی کی مسکراہٹ یہودی جارحیت اور بے حس دنیا دونوں کے منہ پر زبردست طمانچہ تھی۔ جنگ اور کھلی فائرنگ کے ماحول میں مریم افیفی صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہوئے بے خوفی سے مسکراتی ہے۔ ایک اور فلسطینی لڑکی امل طاقتا سات برس حماس کی معاونت کے جرم میں جیل میں گزارتی ہے۔ جس کو سات سال بعد بے گناہ قرار دے کر جب دسمبر 2021 میں رہا کیا گیا تو اس نے پورے عزم کے ساتھ فلسطینی قوم کے لیے حق خودارادیت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف ہر صورت میں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ آج کی مسلم بچیاں ہیں بھارت میں مسلم نوجوان بچیاں خاص طور سے مسکان بھی بے خوفی بہادری اور اپنے حق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی دنیا میں ایک مثال ہے جس سے مسلم حکمرانوں کو ضرور کچھ سیکھنا چاہیے۔