وادی ،لداخ اور جموں کی آبادی بھارت کے خلاف اس وقت سراپا احتجاج ہے فاروق عبداللہ ریاست جموں و کشمیر اس وقت ایک بدترین معاشی اور اقتصادی صورتحال سے گذر رہی ہے

سری نگر() مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک بدترین معاشی اور اقتصادی صورتحال سے گذر رہی ہے ۔  پارٹی کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ  جموں وکشمیر میںہر ایک شعبے پر جمود چھایا ہوا ہے، تینوں خطوں کے لوگ نہایت کسمپرسی اور ناگفتہ بہہ صورتحال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے موجودہ حالات گواہی دے رہے ہیں کہ بھارتی  حکومت نے جموں وکشمیر سے متعلق 5اگست2019کو جو فیصلے  کیے  وہ  ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ دوسال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی لوگ ان فیصلوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وادی کے لوگوں نے روز اول سے ہی ان فیصلوں کو مسترد کیا ہے لداخ اور جموں کی آبادی اس وقت سراپا احتجاج ہے وہ  بھارتی  حکومت کیلئے چشم کشا ہونا چاہئے۔  نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور اس کے منفی اثرات پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ حالات کی خرابی، غیر یقینیت صورتحال اور بے چینی کا سب سے زیادہ منفی اثر ہماری نوجوان پود پر پڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں ڈپریشن، خودکشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔