کارگل کے دو سیاستدان اور ایک صحافی بھارتی سپریم کورٹ پہنچ گئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے لیے درخواست دائر

نئی دہلی () لداخ کے مسلم اکثریتی علاقے کارگل کے دو سیاستدانوں اور ایک صحافی نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370  اور 35 اے کی بحالی کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے  رجوع کر لیا ہے ۔تین درخواست گزاروں قمر علی اخون ، اصغر علی کربلائی اور سجاد حسین نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے آئینی جواز کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔ نئی درخواستوں کونیشنل کانفرنس کے رہنماں محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست  کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ قمر علی اخون مقنوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل  جموں و کشمیر اسمبلی کے کارگل حلقہ سے ایم ایل اے تھے۔ ، اصغر علی کربلائی  لداخ کے ضلع کارگل سے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈر ہیں جبکہ سجاد حسین گریٹر لداخ اخبار کے ایڈیٹر ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر (تنظیم نو) ایکٹ ، کے تحت  کشمیر  کی  خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دیا  گیاہے ،  اس قانون  سے کشمیر میں قانون سازی اور انتظامی اداروں کو ختم کر دیا ہے اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق سے انکار کیا گیا ہے ۔ ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک آمرانہ حکومت کے قیام کا فیصلہ ہے  جس سے  پورے جمہوری عمل کو ختم کر دیا گیا ہے  اس علاقے کے باشندوں کو منتظمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے پاس اس علاقے کے باشندوں کا مینڈیٹ نہیں ہے۔5 اگست 2019 کو بھارت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی