
یورپی سفارتکاروں کو معلوم ہے کہ وہ سیر کے لیے کشمیر آئے ہیں،پروفیسر سیف الدین سوز بھارتی حکومت اور کشمیریوں کو یورپی سفارتکاروں کے دورے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا
سری نگر : بھارت کے سابق وزیر اورکانگریسی رہنما پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ کشمیر آنے والے یورپی سفارتکاروں میں جو زندہ دل اور حقیقت شناس ہونگے وہ اپنے ملکوں میں جا کر اپنے عوام کو کشمیر کی سچی کہانی ضرور بتائیں گے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یورپی سفارتکاروں کو معلوم ہے کہ وہ سیر کے لیے کشمیر آئے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سفارتکاروں کی مقبوضہ علاقے میں آمد محض سیر سپاٹے پر ختم ہوگی او ر بھارتی حکومت اور کشمیریوں کو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ پروفیسر سوز نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا دورہ کرنے والے یورپی سفارتکاروں میں جو زندہ دل اور حقیقت شناس ہونگے وہ اپنے ملکوں میں جا کر اپنے عوام کو کشمیر کی سچی کہانی ضرور بتائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت بار بار اپنی غلطی دہرا رہی ہے اور کوئی سبق نہیں سیکھ رہی ۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں سے صرف مخصوص اور چنے ہوئے لوگوں کی ملاقات کرائی جا رہی ہے جو ایک فضول کارروائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سفارتکاروں کو معلوم ہو گا کہ دفعہ 370کی یکطرفہ طور پر منسوخی پر کشمیری سخت ناراض ہیں ۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے یورپی سفارتکاروں کے دورے کو وقت کی بربادی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ منظور نظر افراد کو لاکر سفارتکاروں سے ملوانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ کھیل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت یورپی وفد کو کشمیر کی سیاسی قیادت اور دیگر مکتب ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے ملنے دے تو وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔