موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ

پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ ماہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے افسوسناک  واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عام صارفین کے ساتھ ساتھ شوبز انڈسٹری نے بھی برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

دو روز قبل موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو مانگا منڈی سے واردات کے ایک ماہ اور 3 دن بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

اب مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے بعد شوبز شخصیات ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

’ایسی سزا دی جائے جو عبرتناک مثال بنے‘

اداکار عدنان صدیقی نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ اب موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم پولیس کے شکنجے میں ہے، اب انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کرنا، انصاف سے انکار کرنا ہے۔

عدنان صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا مجرموں کو اس گھناؤنے جرم کی مثالی سزا دی جائے۔

’بلکل رحم نہ کیا جائے‘

اداکارہ صنم سعید نے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’شکر، دعا ہے کہ انصاف غالب ہو، اس طرح کا گھناؤنا جرم کرنے والوں پر بلکل رحم نہ کیا جائے، ملزم کے لیے جو بھی سزا کا فیصلہ ہو اس کا مقصد اس طرح کے جرائم کی روک تھام ہونا چاہیے۔

’بلکل بھی رحم دلی نہ برتی جائے‘

اداکارہ اقراء عزیز نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے ریپ کیس کے تقریباً ایک ماہ بعد بلآخر ملزم عابد ملہی گرفتار ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون غالب آنا چاہیے اور اس کے ساتھ بلکل بھی رحم دلی نہ برتی جائے۔

 واقعے کا پسِ منظر

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

2 افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کیس میں شریک دوسرا ملزم شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے۔

ایف آئی آر کےمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔

کار کا پیٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا،جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئےاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا اور خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نےمقدمہ درج کیا۔

پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی۔