آٹھ اکتوبر 2005 کی قیامت صغری

(راجہ بشیر عثمانی )

اکتوبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے ہمیں آٹھ اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلہ کی دلخراش داستانیں یاد دلاتا ہے آٹھ اکتوبر 2005 کو ایک ایسی قیامت برپا ہوئ جس نے ایک لمحہ میں ہنستے بستے گھر اور بستیاں اجاڑ دیے تعلیمی اداروں ہسپتالوں سمیت تمام عمارتیں آن واحد میں ملبے کا ڈھیر بن گی ہر چار سو اہیں اور سسکیاں تھی جس سے سارا ماحول افسردہ ہوچکا تھا وہ گھر اور بستیاں جہاں خوشی کے شادیانے بجاتے تھے آج اس سارے ماحول نے غم و رنج و الم کی چادر تان رکھی ہے تعلیمی اداروں کے کلاس رومز ملبہ کا ڈھیر ہیں جہاں بچوں کی کتابیں اور سکولز بیگ بکھرے پڑے ہیں ملبے تلے دبے لوگ چیخ و پکار کررہے تھے اور مدد کےلیے پکار رہے تھے وہ جن کو پکار رہے تھے جن کے نام لے کر آوازیں دے رہے تھے انہیں خبر نہ تھی کہ وہ خود ملبے تلے دب کر موت کی وادی میں جاچکے ہیںاس قیامت خیز زلزلے نے والدین کو بچوں سے بچوں کو والدین سے بہنوں کو بھائیوں سے اور بھائیوں کو بہنوں سے جدا کردیا کسی کے چار بیٹے کسی کے دو بیٹے کسی کا پورا خاندان زلزلے کی نذر ہوگیا آسمان نے اس دردناک اور کربناک منظر بھی دیکھا کہ نہ کوئ نعشیں دفنانے والا ہے نہ ہی کفن میسر ہے دو دو افراد نے بڑی ہمت کرکے اپنے پیاروں کو زمین کے حوالے کیا اس خونخوار زمین نے خوشیاں بکھیرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کردیاوہ جن سے چمن آباد تھے آج وہ چمن ویران ہیں بستیاں اجڑ چکی ہیں گھر ویران ہیں اور قبرستان آباد ہیں ہر گھر میں صف ماتم بچھ چکی ہے اپنے عزیزوں کی جدائ کے غم میں آنسو بہانے والوں کو سہارا دینے والا کوئ نہیں ہے شدت غم سے نڈھال لوگوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والا کوئ نہیں ہے ایک عجیب منظر ہے اور ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے یتیم بچے بلبلا رہے ہیں ان کی آہوں وسسکیوں نے ماحول کو بہت افسردہ کردیا ہے ہر گھر پر ایک قیامت ٹوٹی ہے کون کسی کو سہارا دے نہ گھر سلامت رہے اور نہ گھر کے مکین آسمان تلے سرد موسم میں اللہ تعالی کے سہارے پر یہ رنج و الم اور غم اور دکھوں سے بھرپور راتیں کیسے بیتی یہ ہمارا رب ہی بہتر جانتا ہے غم کے زخم کیسے بھرے اور پیاروں کی جدائ کا غم کیسے برداشت کیا ایک ایسی درد و غم میں ڈوبی کہانی ہے جس کے تذکرے سے جسم و روح کانپ جاتے ہیںصبر و برداشت اور عزم و ہمت کے ساتھ اس رنجیدہ ماحول سے نکلے لیکن اس قیامت کی گھڑی کے ایسے دلخراش واقعات ہیں جہنیں کبھی بھلایا نہیں جا سکا گا ہر شخص اپنے عزیزوں کے غم میں ڈوبا ہوا تھا اور وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ صرف اس کی انگلی کٹی ہوئ ہے حالانکہ یہاں آج ہر شخص زخمی ہےاس قیامت صغری نے گھراور بستیاں اجاڑ کر رکھ دی وہ گھر جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوا کرتی تھی وہاں سکوت طاری ہے عزیزوں کی جدائ کے غم نے سب کو بے حال کررکھا ہے 2005 سے لے کر اب 2020 کا سال ہے محسوس ہوں ہوتا ہے کہ یہ سانحہ کل ہوا ہے آٹھ اکتوبر کے روز جو قیامت گزری ہے وہ ایسی گھڑی تھی جسے ہم کبھی اپنے ذہنوں سے محو نہیں کرسکتے ہمارے زخم آج بھی اسی طرح تازہ ہیں اس قیامت صغری نے ہم سے ہماری بہت ہی پیاری بڑی بہن بھی چھین لی ایک ایسی بہن جس نے ہماری پرورش کی تھی جس نے ہمارے لیے بہت تکالیف برداشت کی تھی ہمارے والدین چونکہ ہمارے بچپن میں وفات پاگے تھے ہماری ساری پرورش اس عظیم بہن نے کی تھی ہماری ساری خوشیاں ہماری اس بہن سے وابستہ تھی بہن کی جدائ کا غم آج بھی ہمیں کھاے جارہا ہے وہ جس نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہر مرحلے پر ہمارا سہارا بنی وہ جو خود مشکلات و پریشانیوں کو برداشت کرکے ہمیں آرام و راحت پہنچاتی تھی وہ جس کے شفقت بھرے دلاسے سے ہمیں ہمت و حوصلہ ملتا تھا وہ جس نے ٹوٹ کر ہمیں پیار دیا محبت و شفقت دی اچانک اس کی جدائ کے غم نے ہمیں بے حال کررکھا ہے اب نہ وہ خوشیاں ہیں نہ ہی وہ خوشی کی محفلیں ہم ترس گے ہیں اپنی اس عظیم بہن کے شفقت بھرے دلاسے سے اب کوئ نہیں رہا جو ہمارا سہارا بنے کوئ نہیں ہے جو ہماری راہنمائ و سرپرستی کرے جو ہمیں اچھے اچھے مشورے دےہمارے سروں پر شفقت بھرا ہاتھ رکھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک بیاباں اور تاریک صحرا میں اپنا سفر جاری رکھے ہوے ہیں جہاں ہر چار سو اندھیرا ہی اندھیرا ہے روشنی کی کرن کسی طرف سے نظر نہیں آتی اس صحرا میں جب تیز ہوائیں اور اندھی آتی ہے تو ہمیں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑا کہ لے جاتی ہے یوں ہی زندگی کا یہ سفر جاری ہےاب ہماری زندگیوں میں وہ خوشیاں ہیں نہ وہ رونقیں زندگی بے سرور سی ہوکر رہ گی ہے اس قیامت صغری نے ہم سے ہماری خوشیاں ہمیشہ کےلیے چھین لی ہیں ہماری عیدیں بھی اب خوشیوں سے خالی ہیں اور ہمارے خوشی کے سب تہوار یونہی گزر جاتے ہیں بس اس امید کے سہارے زندگی کا سفر جاری رکھے ہوے ہیں کہ آخرت میں اپنی بہن سے ضرور ملاقات ہوگیدنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے جو کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے ہمیشہ کی زندگی آخرت کی زندگی ہے جو نہ ختم ہونے والی ہے اس دارفانی میں جو بھی آیا ہے اسے یہاں سے کوچ کر جانا ہے باقی اور ہمیشہ رہنے والی ذات ایک اللہ کی زات ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا2005 کے زلزلہ بھی اللہ تعالی کی طرف سے ایک ازماہش تھی جس نے ہمارے علاقہ کے درودیوار ہلا کر رکھ دیے اللہ تعالی کی مرضی اور منشاء کے سامنے ہم سارے بے بس ہیں ہم اللہ تعالی سے یہ التجا کرتے ہیں کہ وہ زلزلہ کے شہداء کے درجات بلند کرے ہماری مرحومہ بہن سمیت تمام شہداے زلزلہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب ہو اور آخرت میں ہماری ملاقات ہمارے عزیزوں سے ہو اللہ تعالی ہماری ان دعاؤں کو اپنے ہاں شرف قبولیت بخشےامینمیرے کان آج بھی اپنی مرحومہ بہن کی محبت بھری آواز سننے کو ترس رہے ہیں( میرے ویر دوبارہ کب آنا ہے میں آپ کا انتظار کروں گی ) اے کاش وہ لمحات واپس لوٹ اہیں ہماری بہن سے ملاقات ہوجاے خوشی کی محفلیں ایک مرتبہ پھر جم سکیں لیکن کیا ایسا ممکن ہے ؟ نہیں ایسا اب ممکن نہیں ہے جو موت کی وادی میں چلا گیا اس نے کب واپس لوٹنا ہے اللہ تعالی کے خصوصی فضل وکرم سے ہماری ملاقات اپنی بہن سے اب صرف آخرت میں ہی ہوسکتی ہے جس کا ہم انتظار کریں گے